ملفوظات (جلد 8) — Page 80
میںیہ آیت موجود ہے۔اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا (الـحج:۴۰) اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اُس وقت دیا گیا جبکہ مسلمانوں پر ظلم کی حد ہوگئی تو انہیں مقابلہ کا حکم دیا گیا۔اُس وقت کی یہ اجازت تھی دوسرے وقت کے لیے یہ حکم نہ تھا۔چنانچہ مسیح موعود کے لئے یہ نشان قرار دیا گیا۔یَضَعُ الْـحَرْبَ۔اب یہ تو اُس کی سچائی کا نشان ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے گا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس زمانہ میں مخالفوں نے بھی مذہبی لڑائیاں چھوڑ دیں۔ہاں اس مقابلہ نے ایک صورت اور رنگ اختیار کر لیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ قلم سے کام لے کراسلام پر اعتراض کررہے ہیں۔عیسائی ہیں کہ ان کا ایک ایک پرچہ پچاس پچاس ہزار نکلتا ہے اور ہر طرح کوشش کرتے ہیں کہ لوگ اسلام سے بیزار ہو جائیں۔پس اس کے مقابلہ کے لئے ہمیں قلم سے کام لینا چاہیے یا تیر چلانے چاہئیں؟ اس وقت تو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو اُس سے بڑھ کر احمق اور اسلام کا دشمن کون ہوگا؟ اس قسم کا نام لینا اسلام کو بدنام کرنا ہے یا کچھ اور؟ جب ہمارے مخالف اس قسم کی سعی نہیں کرتے حالانکہ وہ حق پر نہیں اور پھر کیسا تعجب اور افسوس ہوگا اگر ہم حق پر ہو کر تلوار کا نام لیں۔اس وقت تم کسی کو تلوار دکھا کر کہو کہ مسلمان ہوجا ورنہ قتل کردوںگا۔پھر دیکھونتیجہ کیا ہوگا وہ پولیس میں گرفتار کراکے تلوار کا مزہ چکھا دے گا۔یہ خیالات سراسر بیہودہ ہیں ان کو سروں سے نکال دینا چاہیے۔اب وقت آیا ہے کہ اسلام کا روشن اور درخشاں چہرہ دکھایا جاوے۔یہ وہ زمانہ ہے کہ تمام اعتراضوں کو دُور کردیا جاوے اور جو اسلام کے نورانی چہرہ پر داغ لگایا گیا ہے اسے دور کر کے دکھایا جاوے۔میں یہ بھی افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے جو موقعہ خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور عیسائی مذہب کے اسلام میںداخل کرنے کے لئے جو راستہ کھولا گیا تھا اسے ہی بُری نظر سے دیکھا اور اس کا کفر کیا۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں میں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ پورے طور پر اس طریق کو پیش کیا ہے جو اسلام کو کامیاب اور دوسرے مذاہب پر غالب کرنے والا ہے۔میرے رسائل امریکہ اور یورپ میں جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس قوم کو جو فراست دی ہے۔