ملفوظات (جلد 8) — Page 79
کہ ان کو سزا دی جاتی۔اس وقت اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا کہ اسلام کا نام و نشان نہ رہے تو البتہ یہ ہو سکتا تھا کہ تلوار کا نام نہ آتا مگر وہ چاہتا تھا کہ اسلام دنیا میں پھیلے اور دنیا کی نجات کا ذریعہ ہو اِس لئے اُس وقت محض مدافعت کے لئے تلوار اُٹھائی گئی۔میں دعوےسے کہتا ہوں کہ اسلام کا اُس وقت تلوار اٹھانا کسی قانون، مذہب اور اخلاق کے رُو سے قابل اعتراض نہیں ٹھیرتا۔وہ لوگ جو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دیتے ہیں وہ بھی صبر نہیں کر سکتے۔اور جن کے ہاں کیڑے کا مارنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے وہ بھی نہیں کر سکتے۔پھر اسلام پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا میں یہ بھی کھول کر کہتا ہوں کہ جو جاہل مسلمان یہ لکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا ہے وہ نبی ٔمعصوم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افترا کرتے ہیں اور اسلام کی ہتک کرتے ہیں۔خوب یاد رکھو کہ اسلام ہمیشہ اپنی پاک تعلیم اور ہدایت اور اس کے ثمرات انوار و برکات اور معجزات سے پھیلا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان نشانات، آپ کے اخلاق کی پاک تاثیرات نے اسے پھیلایا ہے۔اور وہ نشانات اور تاثیرات ختم نہیں ہوگئی ہیں بلکہ ہمیشہ اور ہرزمانہ میں تازہ بتازہ موجود رہتی ہیں اور یہی وجہ ہے جو میں کہتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔اس لئے کہ آپ کی تعلیمات اور ہدایات ہمیشہ اپنے ثمرات دیتی رہتی ہیں۔اور آئندہ جب اسلام ترقی کرے گا تو اس کی یہی راہ ہوگی نہ کوئی اور۔پس جب اسلام کی اشاعت کے لئے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی گئی تو اس وقت ایسا خیال بھی کرنا گناہ ہے۔کیونکہ اب تو سب کے سب امن سے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے کافی ذریعے اور سامان موجود ہیں۔مجھے بڑے ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں اور دوسرے معترضین نے اسلام پر حملہ کرتے وقت ہرگز ہرگز اصلیت پر غور نہیں کیا۔وہ دیکھتے کہ اُس وقت تمام مخالف اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے درپے تھے اور سب کے سب مل کر اس کے خلاف منصوبے کرتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے۔ان دکھوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں اگر وہ اپنی جان نہ بچاتے تو کیا کرتے۔قرآن شریف