ملفوظات (جلد 8) — Page 73
قابض الارواح نے ان کو دوسرے عالَم میں پہنچا دیا ہے۔پھران میں ایک شخص زندہ بجسدہ العنصری کیسے چلا گیا؟ یہ شہادتیں تھوڑی نہیں ہیں ایک سچے مسلمان کے لئے کافی ہیں۔پھر دوسری احادیث میں حضرت عیسیٰ کی عمر ۱۲۰ یا ۱۲۵ برس کی قرار دی ہے۔ان سب امور پر ایک جائی نظر کرنے کے بعد یہ امر تقویٰ کے خلاف تھا کہ جھٹ پٹ یہ فیصلہ کر دیا جاتا کہ مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا ہے اور پھر اس کی کوئی نظیر بھی نہیں۔عقل بھی یہی تجویز کرتی تھی مگر افسوس ان لوگوں نے ذرا بھی خیال نہ کیا۔اور خدا ترسی سے کام نہ لے کر فوراً مجھے دجّال کہہ دیا۔خیال کرنے کی بات ہے کہ کیا یہ تھوڑی سی بات تھی؟ افسوس! پھر جب کوئی عذر نہیں بن سکتا تو کہتے ہیں درمیانی زمانہ میں اجماع ہو چکا۔میں کہتا ہوں کب؟ اصل اجماع تو صحابہؓ کا اجماع تھا۔اگر اس کے بعد اجماع ہوا ہے تو اب ان مختلف فرقوں کو تواکٹھا کر کے دکھاؤ۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ بالکل غلط بات ہے۔مسیح کی زندگی پر کبھی اجماع نہیں ہوا۔انہوں نے کتابوں کو نہیں پڑھا ورنہ انہیں معلوم ہوجاتا کہ صوفی موت کے قائل ہیں اور وہ ان کی دوبارہ آمد بروزی رنگ میں مانتے ہیں۔غرض جیسے میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی ہے ویسے ہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہوں کہ آپ ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور آپ ہی کے فیضان اور برکات کا نتیجہ ہے جو یہ نصرتیں ہورہی ہیں۔میں کھول کر کہتا ہوں اور یہی میرا عقیدہ اور مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور نقش قدم پر چلنے کے بغیر انسان کوئی روحانی فیض اور فضل حاصل نہیں کرسکتا۔حکومت کی امن پسندی، عدل اور مذہبی آزادی کی تعریف پھر اس کے ساتھ ہی ایک اور امر قابل ذکر ہے۔اگر میں اس کا بیان نہ کروں تو ناشکری ہوگی۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایسی سلطنت اور حکومت میں پیدا کیا ہے جو ہر طرح سے امن دیتی ہے اور جس نے ہم کو اپنے مذہب کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے پوری آزادی دی ہے اور ہر قسم کے