ملفوظات (جلد 8) — Page 72
کے لئے بہرحال کوئی ذریعہ اور سبب ہوگا اور وہ یہی موتِ مسیح کا حربہ ہے۔اِس حربہ سے صلیبی مذہب پر موت وارد ہوگی اور ان کی کمریں ٹوٹ جاویں گی۔میں سچ کہتا ہوں کہ اب عیسائی غلطیوں کے دُور کرنے کے لئے اس سے بڑھ کر کیا سبب ہو سکتا ہے کہ مسیح کی وفات ثابت کی جاوے۔اپنے گھروں میں اس امر پر غور کریں اور تنہائی میں بستروں پر لیٹ کر سوچیں۔مخالفت کی حالت میں تو جوش آتا ہے۔سعید الفطرت آدمی پھر سوچ لیتا ہے۔دہلی میں جب میں نے تقریر کی تھی تو سعید الفطرت انسانوں نے تسلیم کر لیا اور وہیں بول اُٹھے کہ بے شک حضرت عیسیٰ کی پرستش کا ستون ان کی زندگی ہے جب تک یہ نہ ٹوٹے اسلام کے لئے دروازہ نہیں کھلتا بلکہ عیسائیت کو اس سے مدد ملتی ہے۔جو ان کی زندگی سے پیار کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ دو گواہوں کے ذریعہ سے پھانسی مل جاتی ہے مگر یہاں اس قدر شواہد موجود ہیں اور وہ بدستور انکار کرتے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ ( اٰلِ عـمران:۵۶) اور پھرحضرت مسیح کا اپنا اقرار اسی قرآن مجید میں موجود ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ(المائدۃ:۱۱۸) اور توفّی کے معنے موت بھی قرآن مجید ہی سے ثابت ہے۔کیونکہ یہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آیا ہے جیسا کہ فرمایا وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠(یونس:۴۷) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ کہا ہے جس کے معنی موت ہی ہیں۔اور ایسا ہی حضرت یوسف اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔پھر ایسی صورت میں اس کے کوئی اور معنے کیونکر ہو سکتے ہیں؟ یہ بڑی زبردست شہادت مسیح کی وفات پر ہے۔اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں حضرت عیسیٰ کو مُردوں میںدیکھا۔حدیث معراج کا تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اسے کھول کر دیکھ لو کہ کیا اس میں حضرت عیسیٰ کا ذکر مُردوں کے ساتھ آیا ہے یا کسی اور رنگ میں۔جیسے آپ نے حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کو دیکھا اُسی طرح حضرت عیسیٰ کو دیکھا۔اُن میں کوئی خصوصیت اور امتیاز نہ تھا۔اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت موسیٰ اور ابراہیم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام وفات پاچکے ہیں اور