ملفوظات (جلد 8) — Page 62
گے مخالفوں کے نامراد رہنے اور اپنے بامراد ہو جانے کی پیشگوئی کرنا ایک خارق عادت امر ہے اگر اس کے ماننے میں کوئی شک ہے تو پھر نظیر پیش کرو۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کے کسی مفتری کی نظیر دو جس نے ۲۵ برس پیشتر اپنی گمنامی کی حالت میں ایسی پیشگوئیاں کی ہوں اور وہ یوں روزروشن کی طرح پوری ہو گئی ہوں۔اگر کوئی شخص ایسی نظیر پیش کردے تو یقیناً یاد رکھو کہ یہ سارا سلسلہ اور کاروبار باطل ہو جائے گا۔مگر اللہ تعالیٰ کے کاروبار کو کون باطل کر سکتا ہے؟ یوں تکذیب کرنا اور بلاوجہ معقول انکار اور استہزا۔یہ حرام زادے کا کام ہے کوئی حلال زادہ ایسی جرأت نہیں کر سکتا۔میں اپنی سچائی کو اسی پر حصر کر سکتا ہوں اگر تم میں کوئی سلیم دل رکھتا ہو۔خوب یاد رکھو کہ یہ پیشگوئی کبھی ردّ نہیں ہو سکتی جب تک اس کی نظیر پیش نہ کی جاوے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں موجود ہے جس کا ریویو مولوی ابوسعید نے لکھا ہے۔اسی شہر میں مولوی محمد حسن اور منشی محمد عمر وغیرہ کے پاس ہوگی۔اس کا نسخہ مکّہ، مدینہ، بخارا تک پہنچا۔گورنمنٹ کے پاس اس کی کاپی بھیجی گئی۔ہندوؤں، مسلمانوں، عیسائیوں، برہموؤں نے اسے پڑھا اور وہ کوئی گمنام کتاب نہیں بلکہ وہ شہرت یافتہ کتاب ہے کوئی پڑھا لکھا آدمی جو مذہبی مذاق رکھتا ہو اس سے بے خبر نہیں ہے۔پھر اس کتاب میں یہ پیشگوئی لکھی ہوئی موجود ہے کہ ایک دنیا تیرے ساتھ ہو جائے گی۔دنیا میں تجھے شہرت دوںگا۔تیرے مخالفوں کو نامراد رکھوںگا۔اب بتاؤ کہ کیا یہ کام کسی مفتری کا ہو سکتا ہے؟ اگر تم یہی فیصلہ دیتے ہو کہ ہاں یہ مفتری کا کام ہو سکتا ہے تو پھر اس کے لئے نظیر پیش کرو۔اگر نظیر دکھادو۔تو میں تسلیم کرلوںگا کہ میں جھوٹا ہوں مگر کوئی نہیں جو اس کی نظیر دکھا سکے۔اور اگر تم اس کی نظیر نہ پیش کر سکو اور یقیناً نہیں کرسکو گے تو پھر میں تمہیںیہی کہتا ہوں کہ خدا سے ڈرو اور تکذیب سے باز آؤ۔یاد رکھو! خدا تعالیٰ کے نشانات کو بدوں کسی سند کے ردّ کرنا دانشمندی نہیں اور نہ اس کا انجام کبھی بابرکت ہوا ہے۔میں تو کسی کی تکذیب یا تکفیر کی پروا نہیں کرتا اور نہ ان حملوں سے ڈرتا ہوں جو مجھ پر کئے جاتے ہیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے آپ ہی مجھے قبل از وقت بتا دیا تھا کہ تکذیب اور تکفیر ہوگی اور خطرناک