ملفوظات (جلد 8) — Page 61
ساتھ ہو جائیں گے۔میں سچ کہتا ہوں کہ میں اس وقت کچھ بھی نہ تھا۔تنہا و بے کس تھا۔خود اللہ تعالیٰ اس زمانہ میں مجھے یہ دعا سکھاتا ہے۔رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ۔یہ دعا اِس نے سکھائی کہ وہ پیار رکھتا ہے اُن لوگوں سے جو دعا کرتے ہیں۔کیونکہ دعا عبادت ہے اور اس نے فرمایا ہے۔اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) دعا کرو میں قبول کروںگا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغز اور مُخ عبادت کا دعا ہی ہے۔اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا کے پیرایہ میں سکھانا چاہتا ہے کہ تو اکیلا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ تو اکیلا نہ رہے گا۔اور میں پکار کر کہتا ہوں کہ جیسا یہ دن روشن ہے۱ اِسی طرح یہ پیشگوئی روشن ہے اور یہ امر واقعی ہے کہ میں اس وقت اکیلا تھا۔کون کھڑا ہو کر کہہ سکتا ہے کہ تیرے ساتھ جماعت تھی۔مگر اب دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کے موافق اور اس پیشگوئی کے موافق جو اس نے ایک زمانہ پہلے خبر دی۔ایک کثیر جماعت میرے ساتھ کردی۔۲ ایسی حالت اور صورت میں اس عظیم الشان پیشگوئی کو کون جھٹلا سکتا ہے۔پھر جبکہ اسی کتاب میں یہ پیشگوئی بھی موجود ہے کہ لوگ خطرناک طور پر مخالفت کریں گے اور اس جماعت کو روکنے کے لئے ہر قسم کی کوششیں کریںگے مگر میں ان سب کو نامراد کروںگا۔پھر براہین احمدیہ میںیہ بھی پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب تک پاک پلید میں فرق نہ کرلوںگا نہیں چھوڑوں گا۔ان واقعات کو پیش کر کے ان لوگوں کو مخاطب نہیں کرتا جن کے دلوں میں خدا کا خوف نہیں اور جو گویا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے مرنا ہی نہیں وہ خدا تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرتے ہیں بلکہ میں ان لوگوں کو مخاطب کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ مرنا ہے اور موت کے دروازے قریب ہورہے ہیں اس لئے کہ خدا سے ڈرنے والا ایسا گستاخ نہیں ہو سکتا۔وہ غور کریں کہ کیا ۲۵ برس پیشتر ایسی پیشگوئی کرنا انسانی طاقت اور قیاس کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟ پھر ایسی حالت میں کہ کوئی اسے جانتا بھی نہ ہو اور ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی ہو کہ لوگ مخالفت کریں گے مگر وہ نامراد رہیں اس وقت آفتاب نکلا ہوا تھا۔ایڈیٹر ۲ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۸،۹