ملفوظات (جلد 8) — Page 58
للہ تعالیٰ کا کام ہے وہ جن باتوں کا ارادہ فرماتا ہے دنیا ان کو روک نہیں سکتی اور جن باتوں کا دنیا ارادہ کرے مگر خدا تعالیٰ ان کا ارادہ نہ کرے وہ کبھی ہو نہیں سکتی ہیں۔غور کرو! میرے معاملہ میں کل علماء اور پیر زادے اور گدی نشین مخالف ہوئے اور دوسرے مذہب کے لوگوں کو بھی میری مخالفت کے لیے اپنے ساتھ ملایا۔پھر میری نسبت ہر طرح کی کوشش کی مسلمانوں کوبدظن کرنے کے لئے مجھ پر کفر کا فتویٰ دیا اور پھر جب اس تجویز میں بھی کامیابی نہ ہوئی تو پھرمقدمات شروع کئے۔خون کے مقدمے میں مجھے پھنسایا اور ہر طرح کی کوششیں کیں کہ میں سزا پا جاؤں۔ایک پادری کے قتل کا الزام مجھ پر لگایا گیا۔اس مقدمے میں مولوی محمد حسین نے بھی میرے خلاف بڑی کوشش کی اور خود شہادت دینے کے واسطے گیا۔وہ چاہتا تھا کہ میں پھنس جاؤں اور مجھے سزا ملے۔مولوی محمد حسین کی یہ کوشش ظاہر کرتی تھی کہ وہ دلائل اور براہین سے عاجز ہے اس لئے کہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب دشمن دلائل سے عاجز ہو جاتا ہے اور براہین سے ملزم نہیں کرسکتا تو ایذا قتل کی تجویزیں کرتا ہے اور وطن سے نکال دینے کا ارادہ کرتا ہے اوراس کے خلاف مختلف قسم کے منصوبے اور سازشیں کرتا ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں جب کفّار مکہ عاجز آگئے اور ہر طرح سے ساکت ہوگئے تو آخر انہوں نے بھی اس قسم کے حیلے سوچے کہ آپ کو قتل کر دیں یا قید کریں یا آپ کووطن سے نکال دیا جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو ایذائیں دیں مگر آخر وہ سب کے سب اپنے ارادوں اور منصوبوں میں نامراد اور ناکام رہے۔اب وہی سنّت اور طریق میرے ساتھ ہورہا ہے مگر یہ دنیا بغیر خالق اور ربّ العالمین کے ہستی نہیں رکھتی۔وہی ہے جو جھوٹے اور سچے میں امتیاز کرتا ہے اور آخر سچے کی حمایت کرتا اور اُسے غالب کر کے دکھادیتا ہے۔اب اس زمانہ میں جب خدا تعالیٰ نے پھر اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا ہے۔میں اس کی تائیدوں کا ایک زندہ نشان ہوں اور اس وقت تم سب کے سب دیکھتے ہو کہ میں وہی ہوں جس کو قوم نے ردّ کیا اور میں مقبولوں کی طرح کھڑا ہوں۔تم قیاس کرو کہ اس وقت آج سے چودہ برس پیشتر جب میں یہاں آیا تھا تو کون چاہتا تھا کہ ایک آدمی بھی میرے ساتھ ہو۔علماء، فقراء اور ہر قسم کے معظم مکرم لوگ یہ چاہتے تھے کہ میں ہلاک ہو جاؤں اور اس سلسلہ کا نام و نشان مٹ جاوے وہ کبھی