ملفوظات (جلد 8) — Page 57
ہوں۔اور میں ایسے وقت اِس شہر سے گیا تھا جبکہ میرے ساتھ چند آدمی تھے اور تکفیر تکذیب اور دجّال کہنے کا بازار گرم تھا۔اور میں لوگوں کی نظرمیں اس انسان کی طرح تھا جو مطرود اور مخذول ہوتا ہے۔اور ان لوگوں کے خیال میں تھا کہ تھوڑے ہی دنوں میں یہ جماعت مردود ہو کر منتشر ہو جائے گی اور اس سلسلہ کا نام نشان مٹ جائے گا چنانچہ اس غرض کےلئے بڑی بڑی کوششیں اور منصوبے کئے گئے اور ایک بڑی بھاری سازش میرے خلاف یہ کی گئی کہ مجھ اور میری جماعت پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اور سارے ہندوستان میں اس فتویٰ کو پھرایا گیا۔میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ سب سے اوّل مجھ پر کفر کا فتویٰ اسی شہر کے چند مولویوں نے دیا مگر میں دیکھتا ہوں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ کافر کہنے والے موجود نہیں اور خدا تعالیٰ نے مجھے اب تک زندہ رکھا اور میری جماعت کو بڑھایا۔میرا خیال ہے کہ وہ فتویٰ کفر جو دوبارہ میرے خلاف تجویز ہوا اسے ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں پھرایا گیا۔اور دو سو کے قریب مولویوں اور مشائخوں کی گواہیاں اورمہریں اس پر کرائی گئیں اس میں ظاہر کیا گیا کہ یہ شخص بے ایمان ہے، کافر ہے، دجال ہے، مفتری ہے، کافر ہے بلکہ اَکْفَر ہے۔غرض جوجو کچھ کسی سے ہو سکا میری نسبت اس نے کہا اور ان لوگوں نے اپنے خیال میں سمجھ لیا کہ بس یہ ہتھیار اب سلسلہ کو ختم کردے گا۔اور فی الحقیقت اگر یہ سلسلہ انسانی منصوبہ اور افترا ہوتاتو اس کے ہلاک کرنے کے لئے یہ فتوے کا ہتھیار بہت ہی زبردست تھا لیکن اس کو خدا نے قائم کیا تھا۔پھروہ مخالفوں کی مخالفت اور عداوت سے کیونکر مر سکتا تھا۔جس قدر مخالفت میں شدّت ہوتی گئی اسی قدر اس سلسلہ کی عظمت اور عزت دلوں میں جڑ پکڑتی گئی۔اور آج میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ یا تو وہ زمانہ تھا کہ جب میں اس شہر میں آیا اور یہاں سے گیا تو صرف چند آدمی میرے ساتھ تھے۔اور میری جماعت کی تعداد نہایت ہی قلیل تھی اور یا اب وہ وقت ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ ایک کثیر جماعت میرے ساتھ ہے اور جماعت کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور دن بدن ترقی ہورہی ہے اور یقیناً کڑوڑوں تک پہنچے گی۔پس اس انقلابِ عظیم کو دیکھو کہ کیا یہ انسانی ہاتھ کا کام ہو سکتا ہے؟ دنیا کے لوگوں نے تو چاہا کہ اس سلسلہ کا نام و نشان مٹا دیں اور اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ کبھی کا اس کو مٹا چکے ہوتے مگر یہ