ملفوظات (جلد 8) — Page 52
کے برخلاف کام کرتا ہے۔میں نے کہا یہ سنت ہے کہ پیالی دائیں ہاتھ سےپکڑی جائے مگر کیا یہ سنت نہیں کہ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ (بنی اسـرآءیل:۳۷) جس بات کا تجھے علم نہیں اس کے متعلق اپنی زبان نہ کھول۔کیا آپ لوگوں کو مناسب نہ تھا کہ مجھ پر حسن ظن کرتے اور خاموش رہتے۔یا یہ نہیں ہو سکتا تھا تو اعتراض کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ ہی لیتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ پھر میں نے بتلایا کہ اصل بات یہ ہے کہ میرے دائیں بازو کی ہڈی بچپن سے ٹوٹی ہوئی ہے اور پیالی پکڑ کر میں ہاتھ کو اوپر نہیں اٹھا سکتا۔جب یہ بات انہیں بتلائی گئی تب وہ سن کر شرمندہ ہوگئے۔۱ ۲۹؍اکتوبر۱۹۰۵ء (بمقام دہلی ) وفات مسیح کے متعلق ایک جامع تحریر جو تحریر حضرت نے مولوی صاحبان کو لکھ کر دی تھی اس کی نقل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وجوہ مفصلہ ذیل ہیں جن کے رو سے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ قرار دیتا ہوں۔(۱) قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ آیات ہیں يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ (اٰلِ عـمران:۵۶) فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المائدۃ:۱۱۸) ان آیات کے معنی صحیح بخاری کتاب التفسیر میں موت لکھے ہیں جیسا کہ اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے لکھا ہے مُتَوَفِّيْكَ مُـمِیْتُکَ اور پھر تظاہر آیات کے لیے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ کا اس جگہ ذکر کیا ہے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بھی ذکر کیا ہے کہ میں قیامت کے دن یہی عرض کروں گا کہ یہ لوگ میری وفات کے بعد بگڑے ہیں جیسا کہ لکھا ہے کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِـحُ۔۔۔۔۔الـخ۔(۲) دوسری دلیل توفّی کے ان معنوں پر جو اوپر ذکر کئے گئے لغت عرب کی کتابیں ہیں۔۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۶،۷۱ مبر ۷