ملفوظات (جلد 8) — Page 35
ہیں۔لاکھ احادیث کے برابر ایک حدیث معراج کی ہے۔شب معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسٰی کو مُردوں میں دیکھا۔اگر قبض روح نہیں ہوا اور زندہ مع الجسم آسمان پر گئے تو دوسرے عالَم میں کس طرح پہنچ گئے۔متقی کے واسطے تو ایک ہی بات کافی ہوتی ہے۔خیالی اور ظنی باتوں کے پیچھے پڑ کر اصلی اور صحیح بات کو چھوڑ دینا تقویٰ کے بر خلاف ہے۔مجھے خدا کی طرف سے بار بار تفہیم ہوئی ہے۔اس کے ساتھ نشانات، تائید، نصرتِ الٰہی، نصوصِ قرآن و حدیث ہیں۔میں جو کچھ کہتا ہوں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں۔خیال کرو کہ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ کون سی بات ہے۔میں تو ایسا آیا ہوں جیسا کہ الیاس آیا۔یہود سے پوچھو کہ وہ مسیح کے ماننے سے کیوں محروم رہے؟ ان کا عذر بھی یہی تھا کہ جیسا توریت میں لکھا ہے الیاس آسمان سے نہیں آیا۔مگر ہمارے مسلمان تو یہ عذر بھی نہیں کر سکتے کیونکہ یہ بہت واقعات پہلے کے اپنے آگے رکھتے ہیںکہ نزول کس طرح سے ہوا کرتا ہے۔یہ لوگ جتنا چاہیں مجھ سے جھگڑا کر لیں۔مُونے کے بعد ان کو معلوم ہو جائے گا کہ حق کس طرف ہے۔یہ لوگ عیسائیوں کی اس قدر مدد کرتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو خود ان مولویوں نے ہی عیسائی بنا دیا ہے جو پہلو خدا نے پکڑا ہے وہی سب سے افضل ہے اور اسلام کی فتح اسی کے ذریعہ سے ہوگی۔نزول اور نزیل کا لفظ مہمان کے واسطے بطور اعزاز و اکرام کے استعمال کیا جاتا ہے۔ہر زبان میں یہ محاورہ ہے۔چنانچہ اردو میں بھی کہتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں؟ اتنے میں ایک مولوی صاحب درمیان میں بول پڑے اور کہنے لگے کہ مسیح تو دمشق میں نازل ہوگا۔آپ کہاں نازل ہوئے؟ حضرت۔حدیث سے یہ ثابت ہے کہ وہ دمشق کے مشرق کی طرف نازل ہوگا قادیان دمشق سے عین مشرق میں ہے۔توفّی کے معنے توفّی کے معنے کے متعلق شہر بغداد میں ایک بڑا مباحثہ ہوا تھا کہ اس لفظ کے کیا معنے ہیں۔اس مباحثہ میں بالآخر یہی فیصلہ ہوا کہ جہاں اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول بہٖ علَم ہو وہاں سوائے مارنے کے اور کوئی معنے نہیں آتے۔اگر آج تم قرآن، حدیث یا لغت