ملفوظات (جلد 8) — Page 34
تقویٰ کی اہمیت فرمایا۔افسوس ہے کہ لوگ اپنے کاروبار میں اس قدر مصروف ہیں کہ دوسرے پہلو کی طرف ان کو بالکل کوئی توجہ نہیں۔ہر ایک شخص ایک پہلو پر حد سے زیادہ جھک جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جس قدر بار بار تقویٰ کا ذکر کیا ہے اتنا ذکر اور کسی امر کا نہیں کیا۔تقویٰ کے ذریعہ سے انسان تمام مہلکات سے بچتا ہے۔یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں تقویٰ سے کام نہ لیا اور کہا جب تک الیاس آسمان سے نہ آلے ہم تم کو نہیں مان سکتے۔انہیں چاہیے تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور خوارق کا مطالعہ کرتے اور بہت سی باتوں کے مقابلہ میں صرف ایک بات پر نہ اڑتے۔ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں نے کہا کہ آخری زمانہ کا نبی تو اسرائیلیوں میں سے آنا چاہیے تھا ہم تم کو نہیں مان سکتے۔تائیدات الٰہی، نصرت حق اورمعجزات کی انہوں نے کچھ پروا نہ کی۔ہر نبی کے وقت ابتلاؤں کا ہونا ضروری ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک نبی کے وقت ابتلاؤں کا ہونا ضروری ہے۔اگر خدا چاہتا تو توریت میں ایسے لفظ صاف لکھ دیتا کہ آخری زمانہ کے نبی کے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ اور مسکن مکہ ہوگا۔مگر خدا نے ایسا نہیں کیا۔ایسا ہی اس وقت کے مسیح کے زمانہ میں بھی ہوا۔اگر لوگ نبی کریم کے ساتھ فرشتوں کو نازل ہوتے دیکھ لیتے تو کوئی بھی انکار نہ کرتا۔مگر خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ ابتلا آئیں اور متقی لوگ اس ابتلا کے وقت بچ رہتے ہیں۔آسمان سے نازل ہونے کی حقیقت آسمان سے نازل ہونے کی سنّت پہلے کبھی قائم نہیں ہوئی۔آدم سے لے کر آج تک کوئی نظیر پیش کرو کہ کوئی نبی آسمان پر گیا ہو یا آسمان سے نازل ہوا ہو۔خدا کی عادت نہیں کہ کسی ایک شخص کے واسطے کوئی امر مخصوص کر دے۔ایک امر مخصوص کے ساتھ تو کوئی نبی بھی نہیں آیا۔اس طرح سے تو وہ شخص معبود بن جاتا ہے اور یسوع کو خصوصیت دینا تو خود نصاریٰ کو مدد دینا ہے۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر وفات ظاہر کر دی ہے۔معراج کی حدیث کو پڑھو۔جو لوگ معراج کے منکر ہیں وہ تو اسلام کے منکر