ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 31

سچا مومن سچا مومن وہ ہے جو کسی کی پرواہ نہ کرے۔خدا تعالیٰ خود ہی سارے بندو بست کر دے گا۔لوگوں کی تکلیف دہی کی پرواہ نہیں رکھنی چاہیے۔دنیا میں کوئی کسی کے ساتھ دوستی پکی کرتا ہے تو دنیا کے لوگ اپنی دوستی کا حق ادا کرتے ہیں۔وہ کون دوست ہے جس کے ساتھ سلوک کیا جاوے تو وہ بے تعلقی ظاہر کرے۔ایک چو رکے ساتھ ہمارا سچاتعلق ہو تو وہ بھی ہمارے گھر میں نقب زنی نہیں کرتا تو کیا خدا کی وفا چور کے برابر بھی نہیں۔خدا کی دوستی تو وہ ہے کہ دنیاداروں میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں۔دنیا داروں کی دوستی میں تو عذر بھی ہے۔تھوڑی سی رنجش کے ساتھ دنیا دار دوستی توڑنے کو طیار ہوجاتا ہے مگر خدا کے تعلقات پکے ہیں۔جو شخص خدا کے ساتھ دوستی کرتا ہے خدا اس پر برکات نازل کرتا ہے۔اس کے گھر میں برکت دیتا ہے۔اس کے کپڑوں میں برکت دیتا ہے۔اس کے پس خوردہ میں برکت دیتا ہے۔بخاری میں ہے کہ نوافل کے ذریعہ سے انسان خدا سے تعلق پیدا کرتا ہے۔نوافل ہر شے میں ہوتے ہیں۔فرض سے بڑھ کر جو کچھ کیا جائے وہ سب نوافل میں داخل ہے۔جب انسان نوافل میں ترقی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔اور اس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص میرے ولی سے مقابلہ کرتا ہے وہ میرے ساتھ لڑائی کے لیے طیار ہوجائے۔خدا کے ساتھ سچی محبت کرنے والے بھی غنی بے نیاز ہوجاتے ہیں۔لوگوں کی تکذیب کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے۔جو لوگ خلقت کی پرواہ کرتے ہیں وہ خلق کو معبود بناتے ہیں۔خدا کے بندوں میں ہمدردی بہت ہوتی ہے مگر ساتھ ہی ایک بےنیازی کی صفت بھی لگی ہوئی ہے۔وہ دنیا کی پرواہ نہیں کرتے۔آگے خدا کا فضل ہوتا ہے کہ دنیا کھچی ہوئی ان کی طرف چلی آتی ہے۔جماعت کو نصیحت ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہیے کہ نری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔اندرونی تبدیلی کرنی چاہیے۔صرف مسائل سے تم خدا کو خوش نہیں کر سکتے۔اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں پھر کچھ فرق