ملفوظات (جلد 8) — Page 30
ہیں۔مگر یہ بات ایمان کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ایک شخص کے اپنے دل میں ہزار گند ہوتا ہے۔پھر خدا پر شک لاتا ہے اور چاہتا ہے کہ مومنوں کا حصہ مجھے بھی ملے۔جب تک انسان پہلی زندگی کو ذبح نہ کر دے اور محسوس نہ کرلے کہ نفس امّارہ کی خواہش مر گئی ہے اور خدا کی عظمت دل میں بیٹھ نہ جائے تب تک مومن نہیں ہوتا۔اگر مومن کو خاص امتیاز نہ بخشا جائے تو مومنوں کے واسطے جو وعدے ہیں وہ کیونکر پورے ہوں گے لیکن جب تک دو رنگی اور منافقت ہو تب تک انسان کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ (النّسآء:۱۴۶) اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایک ایسی جماعت بنائے گا جو ہر جہت میں سب پر فوقیت رکھے گی۔اللہ تعالیٰ ہر طرح کا فضل کرے گا۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے نفس کا تزکیہ کرے۔ہاں کمزوری میں اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے۔جو شخص کمزور ہے اور ہاتھ اٹھاتا ہے کہ کوئی اس کو پکڑے اور اٹھائے اس کو اٹھایا جائے گا۔مگر مومن کو چاہیے کہ اپنی حالت پر فارغ نہ بیٹھے۔اس سے خدا راضی نہیں ہے۔ہر طرح سے کوشش کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے جو سامان ہیں وہ سب مہیا کئے جائیں۔ریاکاری ریاکار انسان بے فائدہ کام کرتا ہے۔مومن کو تو خداوند تعالیٰ خود بخود شہرت دیتا ہے۔ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ مسجدوں میں لمبی نمازیں پڑھا کرتا تھا تاکہ لوگ اسے نیک کہیں۔لیکن جب وہ بازار سے گذرتا تو لڑکے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے اور کہتے کہ یہ ایک ریاکار آدمی ہے جو دکھلاوے کی نمازیں پڑھتا ہے۔ایک دن اس شخص کو خیال ہوا کہ میں لوگوں کا کیوں خیال رکھتا ہوں اور بے فائدہ محنت اٹھاتا ہوں۔مجھے چاہیے کہ اپنے خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤں اور خالص خدا کی خاطر عبادت کروں۔یہ بات سوچ کر اس نے سچی توبہ کی اور اپنے اعمال کو خدا کے واسطے خاص کر دیا اور دنیوی رنگ کی نمازیں چھوڑ دیں اور علیحدگی میں بیٹھ کر دعائیں کرنے لگا اور اپنی عبادت کو پوشیدہ رکھناچاہا۔تب وہ جس کوچہ سے گذرتا لوگ اس کی طرف اشارہ کرتے کہ یہ ایک نیک بخت آدمی ہے۔