ملفوظات (جلد 8) — Page 298
نمے رنجم گر اکنوں سر بہ پیچند کہ ترک رسم و رہ کارے است دشوار فلک را بین کہ مہر و مہ سیہ شد زمین طاعون بر آرد بہر انذار مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پرانی تحریر میں خوش کیوں ہوں میرے دل میں تین خوشیاں ہیں جو میرے لئے دنیا اور آخرت میں ہی ہیں۔(۱) ایک یہ کہ میں نے اس سچے خدا کو پالیا ہے جو درحقیقت خدا ہے جس کی طرف سجدہ کرتے ہوئے ہر ایک ذرہ ایسا ہی جھکتا ہے جیسا کہ ایک عارف جھکتا ہے۔(۲) یہ کہ اس کی رضامندی میں نے اپنے شامل حال دیکھی ہے اور اس کی رحمت سے بھری ہوئی محبت کا میں نے مشاہدہ کیا ہے۔(۳)تیسرے یہ کہ میں نے دیکھا ہے اور تجربہ کیا ہے کہ وہ عالم الغیب ہے اور ایسا کامل رحیم ہے کہ ایک رحم اس کا تو عام ہے اور خاص رحم اس کا ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جو اس میں کھوئے جاتے ہیں اور وہ قدیر ہے جس کی تکلیف کو راحت کے ساتھ بدلنا چاہے ایک دم میں بدل سکتا ہے یہ تین صفتیں اس کے پرستاروں کے لئے بڑی خوشی کا مقام ہیں۔۱ ۱۹؍ستمبر ۱۹۰۶ء کوئی بیماری لاعلاج نہیں ایک بیمار حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا اور اس نے دعا کے واسطے عرض کی اور اپنی حالت پر مایوسی کا اظہار کیا۔۱بدر جلد ۲ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۸