ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 285

میں بطور چار دیواری کے تھے انہوں نے جو کچھ کیا خدا کے واسطے کیا اور شریر لوگوں کو حد سے بڑھنے سے بچایا۔ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ان لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈالا اور بے نفس ہو کر اسلام کی خدمت کی۔ان لوگوں کی طرح وہ نہ تھے کہ ہر وقت دنیا کو مقدم رکھتے۔خواجہ کمال الدین صاحب۔ان علماء کا تو یہی نمونہ کافی ہے جو ثناء اللہ نے عدالت کے اندر حضور کے برخلاف گواہی کی خاطر دکھایا (یعنی بیان کیا کہ جھوٹھ، چوری، زنا جو کچھ مسلمان کر لے اس کے تقویٰ میں کچھ فرق نہیں آتا۔ایڈیٹر) شریف۔ان لوگوں میں دنیا طلبی ہے۔دین نہیں رہا۔دعا کے اصول اس کے بعد اس شریف مرد نے اپنے بعض ذاتی امور کے واسطے دعا کے لیے حضرت کی خدمت میں درخواست کی جس پر حضرت نے فرمایا۔میں آپ کے واسطے انشاء اللہ دعا کروں گا۔مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اصول دعا میں سے یہ بات ہے کہ جب تک انسان کو کسی کے حالات کے ساتھ پورا تعلق نہ ہو تب تک وہ رقّت اور درد اور توجہ نہیں ہو سکتی جو دعا کے واسطے ضروری ہے اور اس قسم کے حضور اور توجہ کا پیدا کرنا دراصل اختیاری امر نہیں ہے۔دعا میں کوشش ہر دو طرف سے ہونی ضروری ہے۔دعا کرنے والا خدا تعالیٰ کے حضور میں توجہ کرنے میں کوشش کرے اور دعا کرانے والا اس کو توجہ دلانے میں مشغول رہے۔بار بار یاد دلائے خاص تعلق پیدا کرے۔صبر اور استقامت کے ساتھ اپنا حالِ زار پیش کرتا رہے۔تو خواہ مخواہ کسی نہ کسی وقت اس کے لیے درد پیدا ہوجائےگا۔دعا بڑی شے ہے جبکہ انسان ہر طرف سے مایوس ہوجائے تو آخری حیلہ دعا ہے جس سے تمام مشکلات حل ہو جاتے ہیں۔مگر ایسی توجہ کی دعا ضرور ایک وقت چاہتی ہے اور یہ بات انسان کے اختیار میں نہیں کہ کسی کے واسطے دل میں درد پیدا کرلے۔ایک صوفی کا ذکر ہے کہ وہ راستہ میں جاتا تھا کہ ایک لڑکا اس کے سامنے گر پڑا۔اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔صوفی کے دل میں درد پیدا ہوا۔اور اسی جگہ خداوند کے آگے دعا کی اور عرض کی کہ اے خدا تو