ملفوظات (جلد 8) — Page 284
۲۹؍جولائی ۱۹۰۶ء بزرگانِ اسلام اور علماءِ وقت امرت سر کے ایک شریف خاندان کا ایک ممبر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اثنائے گفتگو میں حضرت نے کہا کہکیا آپ امرت سر میں ہمارے لیکچر میں موجود تھے؟ شریف۔میں اس لیکچر میں موجود تھا اور آپ کی کرسی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔نادانوں نے شرارت کی مگر اس وقت ان کو کون سمجھاتا۔حضرت اقدس۔ہاں اس وقت ان لوگوں کو سمجھانا محال تھا۔اس وقت تو ان لوگوں کا وہ حال تھا جیسا کہ تاجروں کا قصہ ہے کہ چند تاجر کسی جگہ راہ میں جاتے تھے کہ قزاقوں نے ان پر حملہ کیا۔تجار کے ہمراہ ایک حکیم بھی تھا۔کسی نے حکیم کو کہا کہ ان کو نصیحت کرو۔حکیم نے جواب دیا کہ اس وقت ان لوگوں کو نصیحت کرنا بے فائدہ ہے۔یہ نفس پرستی میں ایسے اندھے ہیںکہ ان کو اس وقت کوئی نصیحت کارگر نہیں ہو سکتی۔ہمارا منشا اس لیکچر میں یہ تھا کہ اسلام کی خوبیاں بیان کی جائیں۔مگر افسوس ہے کہ ان لوگوں نے شرارت کی۔شریف۔ان کا قصور ہی کیاہے وہ اندھے ہیں ان کو بصیرت نہیں۔حضرت اقدس۔زیادہ تر افسوس تو علماء پر ہے جو عوام کو دھوکہ میں ڈالتے ہیں۔دیکھو! اسلام پر کس قدر انحطاط کا زمانہ ہے کہ علماء کی حالت ایسی گندی ہے۔شریف۔علماء کیوں ایسا نہ کریں جبکہ ان کے واسطے ذریعہ معاش صرف اسی میں ہے۔آپ نے دیکھا یا سنا ہوگا آجکل امرت سر کے مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت امام ابو حنیفہ کے حق میں کیسے کیسے خراب کلمات لکھ کر اشتہار دے رہا ہے۔یہی علماء لوگ اسلام میں فتنہ ڈالتے ہیں۔حضرت اقدس۔ائمہ کے حق میں سخت کلامی کرنا بہت ہی نامناسب امر ہے۔جس زمانہ میں یہ بزرگ گذرے ہیں اگر وہ دین کی خدمت نہ کرتے تو ہزار ہا خرابیاں پیدا ہوجاتیں یہ لوگ اسلام