ملفوظات (جلد 8) — Page 279
کسی کا انصاف نہ کرتا تھا اور رات دن اپنی عیش میں مصروف رہتا تھا ایک عورت جس کا ایک مقدمہ تھا وہ ہر وقت اس کے دروازے پر آتی ہے اور اس سے انصاف چاہتی۔وہ برابر ایسا کرتی رہتی یہاں تک کہ قاضی تنگ آگیا اور اس نے بالآخر اس کا مقدمہ فیصلہ کیا اور اس کا انصاف اسے دیا۔دیکھو! کیا تمہارا خدا قاضی جیسا بھی نہیں کہ وہ تمہاری دعا سنے اور تمہیں تمہاری مراد عطا کرے۔ثابت قدمی کے ساتھ دعا میں مصروف رہنا چاہیے۔قبولیت کا وقت بھی ضرور آ ہی جائے گا۔استقامت شرط ہے۔۱ ۱۶؍جولائی ۱۹۰۶ء ڈاکٹر عبد الحکیم ڈاکٹر عبد الحکیم کا ذکر تھا۔فرمایا۔وہ ہم سے ہی کیا پھرا ہے وہ تو خود اسلام سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی پھر گیا ہے۔افسوس تو ان مولویوں اور مسلمانوں پر ہے جو اسلام کا دعویٰ کر کے ایک ایسے آدمی کی حمایت کرتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو بھی ضروری نہیں جانتا اور اس کے نزدیک گویا آنحضرتؐکے وجود کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔افسوس ہے کہ ہمارے بغض کے سبب یہ لوگ ایسے کام کرتے ہیں کہ خود ہی اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں۔چراغ دین فرمایا۔چراغ دین مسیح بنتا تھا۔عیسائیوں نے اس کی امداد کی۔مگر خدا کے مسیح کے بالمقابل وہ ناکام رہا۔ہمارا دعویٰ بھی مسیح ہونے کا ہے لیکن ہمارے ساتھ عیسائی لوگ سخت عداوت رکھتے ہیں۔اور چراغ دین کا دعویٰ بھی مسیح ہونے کا تھا مگر اس کی امداد اور نصرت میں کھڑے ہوگئے۔وجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹا تھا اور یہ بھی جھوٹے ہیں جو انسان کو خدا بناتے ہیں۔جھوٹا جھوٹے کا حامی اور ناصر بن جاتا ہے، لیکن صادق کا ساتھ صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو راستباز ہوں اور ایسے لوگ ہمیشہ تھوڑے ہوتے ہیں۔۲ ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۶؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ۲بدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۶؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۴