ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 278

سکتے ان کے واسطے ضروری ہے کہ نماز کے اندر ہی قرآن شریف پڑھنے اور مسنون دعائیں عربی میں پڑھنے کے بعد اپنی زبان میں بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگے اور عربی دعاؤں کا اور قرآن شریف کا بھی ترجمہ سیکھ لینا چاہیے۔نماز کو صرف جنتر منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ اس کے معانی اور حقیقت سے معرفت حاصل کرو۔خدا تعالیٰ سے دعاکرو کہ ہم تیرے گنہگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے تو ہم کو معاف کر اور دنیا اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا۔آجکل لوگ جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں مانگنے بیٹھتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔جس نماز میں تضرع نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں خدا تعالیٰ سے رقّت کے ساتھ دعا نہیں وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی نماز ہے۔نماز وہ ہے جس میں دعا کا مزا آجاوے۔خدا کے حضور میں ایسی توجہ سے کھڑے ہوجاؤ کہ رقّت طاری ہوجائے جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتویٰ لگنے والا ہوتا ہے۔اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے۔ایسے ہی خوفزدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیںہوتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ (الماعون:۵،۶) لعنت ہے ان پر جو اپنی نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔نماز وہی اصلی ہے جس میں مزہ آجاوے۔ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔نماز مومن کے واسطے ترقی کا ذریعہ ہے۔اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ (ھود:۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔دیکھو! بخیل سے بھی انسان مانگتا رہتا ہے تو وہ بھی کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رحم کھاتا ہے۔خدا تعالیٰ تو خود حکم دیتا ہے کہ مجھ سے مانگو اور میں تمہیں دوں گا۔جب کبھی کسی امر کے واسطے دعا کی ضرورت ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ آپ وضو کر کے نماز میں کھڑے ہوجاتے اور نماز کے اندر دعا کرتے۔دعا کے معاملہ میں حضرت عیسٰیؑ نے خوب مثال بیان کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک قاضی تھا جو