ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 257

سائل نے سوال کیا کہ اگر اسلام میں اس قسم کا نبی ہو سکتا ہے تو آپ سے پہلے کون نبی ہواہے؟ حضرت نے فرمایا۔یہ سوال مجھ پر نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔انہوں نے صرف ایک کا نام نبی رکھا ہے۔اس سے پہلے کے کسی آدمی کا نام نبی نہیں رکھا۔اس سوال کا جواب دینے کا اس واسطے میں ذمہ وار نہیں ہوں۔۱ ۳۱؍مئی ۱۹۰۶ء ایک رؤیا فرمایا۔تین چار روز ہوئے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ بہت سے چھوٹے زنبور ہیں اور میں ان کو مارتا ہوں اس سے مراد یہی مخالف دشمن ہیں جو احمق ہیں اور غوغا مچاتے ہیں۔مخالفین کی تباہی دلائل کے ذریعہ ہوگی یہ بھی حکمت الٰہی ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جوش دیا کہ خلقت کو ہدایت دیں اور ان کو راہِ راست پر لاویں اور دوسری طرف ابوجہل جیسوںکو جوش دیا کہ مخالفت میں شور و غوغا مچائیں۔مذکورہ بالا رؤیا کے مطابق مخالفوں کی تباہی بذریعہ دلائل اور بذریعہ نشاناتِ الٰہی کے ہے۔دشمن خود بخود ہلاک ہو رہے ہیں کیونکہ یہ زمانہ تلوار کا نہیں۔خدا آپ سامان پیدا کرتا ہے۔رفعِ درجات کے لیے ابتلا ضروری ہیں حیدر آباد کے مولوی محمد سعید صاحب نے اپنے ابتلاؤں کا ذکر کیا۔فرمایا۔جب تک انسان ابتلا کی برداشت نہ کرے خدا کے پاس اس کو درجہ نہیں مل سکتا۔روحانی انقلاب کے لیے خدا تعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے فرمایا۔ہم غریب اور ضعیف ہیں نہ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۳،۴