ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 234

استغفار بہت کرنا چاہیے اور اپنی حالت میں ایک تبدیلی کرنی چاہیے۔سوائے اس کے کوئی صورت بچاؤ کی نہیں۔زلزلہ کے متعلق متواتر الہامات ہوچکے ہیں اور خوابیں آئی ہیں۔اور بھی بہت لوگوں نے ایسے خواب دیکھے ہیں۔۱ ۱۱؍فروری ۱۹۰۶ء دعاؤں کی قبولیت فرمایا۔بڑے شکر کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو دعائیں کی جاتی ہیں وہ اکثر قبول ہوتی ہیں قضاء و قدر تو رک نہیں سکتی اور اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ سے ہر ایک کام کرتا ہے۔لیکن اکثر دعاؤں میں اپنی مراد کے مطابق کامیابی ہو جاتی ہے اور ایک قطعی اور یقینی امر یہ ہے کہ دعا کا نتیجہ خواہ کچھ ہی ہونے والا ہو جواب ضرور مل جاتا ہے۔خواہ وہ جواب حسب مراد ہو اور خواہ خلاف مراد ہو۔اللہ تعالیٰ دعا سے ناراض نہیں ہوتا فرمایا۔زلزلہ کے بارے میں میں نے یہ توجہ نہیں کی کہ کب اور کس وقت واقع ہوگا کیونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں اخفا چاہتا ہے۔انسان کے ملکی رازوں میں بھی اخفا ہوتا ہے۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے کاموں میں بھی اخفا ہوتا ہے اس واسطے میں ڈرتا ہوں کہ اس کے متعلق زیادہ دریافت کرنے کی کوشش کرنا کہیں بیہودگی نہ سمجھی جاوے۔تاہم اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے وہ دعا کرنے سے ناراض نہیں ہوتا۔لکھا ہے کہ جب آنحضرتؐکو کہا گیا کہ اگر تو فلاں اشخاص کے متعلق ستّر دفعہ بھی دعا کرے تب بھی قبول نہ ہوگی تو آنحضرتؐنے کہا کہ میں ستر سے بھی زیادہ دفعہ دعا کروں گا۔ایسا ہی حضرت ابراہیم نے قومِ لوط کے متعلق مجادلہ کیا۔حالانکہ مجادلہ کرنا سوء ادب ہے۔کیونکہ مجادلہ میں بے دلیل درخواست ہوتی ہے۔لیکن چونکہ یہ دعا کا رنگ تھا خدا تعالیٰ نے اس کو نا پسند نہیں فرمایا۔فرمایا۔زلزلہ کے متعلق بہت خطرہ ہے اور اس کا علاج بجز دعا کے اور کچھ نظر نہیں آیا۔راتوں کو اٹھ اٹھ کر تہجد میں دعائیں کرو تاکہ خدا تعالیٰ رحم کرے۔۱ بدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۹؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲