ملفوظات (جلد 8) — Page 231
اور اس کے سلسلہ کو نئے سرے سے پھر قائم کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا۔بہت سے بادیہ نشین مرتد ہوگئے تھے۔لوگوں نے سمجھا کہ یہ بے وقت موت ہے۔صرف دو مسجدوں میں نماز پڑھی جاتی تھی باقی میں بند ہوگئی۔تب خدا تعالیٰ نے ابو بکر کو اٹھایا اور تمام کاروبار اسی طرح جاری رہا۔اگر انسان کا کاروبار ہوتا تو اس وقت ادھورا رہ جاتا۔ایسا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جو نمونہ ایک ناکامی اور تباہی اور پریشانی کا ان کی امت نے دیکھا تھا اس کی تو کوئی نظیر ہی موجود نہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی کا ایک نمونہ دکھانا چاہتا ہے کہ نبی کے زمانہ میں اس کے تمام کاموں کی تکمیل نہیں کرتا۔سنت اللہ ہمیشہ اسی طرح سے جاری ہے کہ لوگوں کا خیال کسی اور طرف ہوتاہے اور خدا تعالیٰ کوئی اور بات کر دکھلاتا ہے جس سے بہتوں کے واسطے صورت ابتلا پیدا ہوجاتی ہے۔آنحضرتؐکے متعلق تمام پہلوں کو بھی دھوکا رہا کہ وہ نبی بنی اسرائیل میں سے ہوگا۔حضرت عیسیٰ کے متعلق الیاس کا دھوکا آج تک یہودیوں کو لگا ہوا ہے۔لکھا ہے کہ ایک بزرگ جب فوت ہوئے تو انہوں نے کہا کہ جب تم مجھے دفن کر چکو تو وہاں ایک سبز چڑیا آئےگی۔جس کے سر پر وہ چڑیا بیٹھے وہی میرا خلیفہ ہوگا۔جب وہ اس کو دفن کر چکے تو اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ چڑیا کب آتی ہے اور کس کے سر پر بیٹھتی ہے۔بڑے بڑے پرانے مرید جو تھے ان کے دلوں میں خیال گزرا کہ چڑیا ہمارے ہی سر پر بیٹھے گی۔تھوڑی ہی دیر میں ایک چڑیا ظاہر ہوئی اور وہ ایک بقّال کے سر پر آبیٹھی جو اتفاق سے شریک جنازہ ہوگیا تھا تب وہ سب حیران ہوئے لیکن اپنے مرشد کے قول کے مطابق اس کو لے گئے اور اس کو اپنے پیر کا خلیفہ بنایا۔آنے والا موعود ایک ہی ہے ایک شخص نے سوال کیا کہ لکھا ہے کہ مسیح کئی ہوں گے۔فرمایا۔جیسا تشابہ فی الصُّوَر ہوتا ہے ایسا ہی تشابہ فی الاخلاق بھی ہوا کرتا ہے لکھا ہے کہ ہر ایک صالح کا دل کسی نہ کسی نبی کے دل پر ہوتا ہے۔لیکن موعود جو آنے والا تھا وہ صرف ایک ہی ہے۔