ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 230

جو اس نے اس دنیا میں کئے تھے اور اس کے پس ماندگان کے واسطے بھی دعا کرنی چاہیے۔سوال۔دعا میں کون سی آیت پڑھنی چاہیے؟ جواب۔یہ تکلفات ہیں۔تم اپنی ہی زبان میں جس کو بخوبی جانتے ہو اور جس میں تم کو جوش پیدا ہوتا ہے میت کے واسطے دعا کرو۔سوال۔کیا میت کو صدقہ خیرات اور قرآن شریف کا پڑھنا پہنچ سکتا ہے؟ جواب۔میت کو صدقہ خیرات جو اس کی خاطر دیا جاوے پہنچ جاتا ہے لیکن قرآن شریف کا پڑھ کر پہنچانا حضرت رسول کریمؐ اور صحابہؓ سے ثابت نہیں ہے۔اس کی بجائے دعا ہے جو میت کے حق میں کرنی چاہیے۔میت کے حق میں صدقہ خیرات اور دعا کا کرنا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی سنت سے ثابت ہے۔لیکن صدقہ بھی وہ بہتر ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے دے جائے۔کیونکہ اس کے ذریعہ سے انسان اپنے ایمان پر مہر لگاتا ہے۔۱ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۶ء نبی کی وفات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی ایک خادم جو باہر سے آیا تھا حضور کی خدمت میں اس الہام کا ذکر کر کے کہ آپ کی وفات کے دن قریب ہیں رو پڑا۔فرمایا۔یہ وقت تمام انبیاء کے متبعین کو دیکھنا پڑتا ہے اور اس میں ایک نشان خدا تعالیٰ دکھاتا ہے۔نبی کی وفات کے بعد اس سلسلہ کو قائم رکھ کر اللہ تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ دراصل خدا ہی کی طرف سے ہے۔بعض نادان لوگ نبی کے زمانہ میں کہا کرتے ہیں کہ یہ ایک ہوشیار اور چالاک آدمی ہے اور دوکاندار ہے۔کسی اتفاق سے اس کی دوکان چل پڑی ہے۔لیکن اس کے مرنے کے بعد یہ سب کاروبار تباہ ہو جاوے گا۔تب اللہ تعالیٰ نبی کی وفات کے وقت ایک زبردست ہاتھ دکھاتا ہے ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۶