ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 210

پرائے دشمن، جدھر نظر اٹھاؤ دشمن ہی دشمن تھے۔ایسی حالت اور صورت میں وہ زنجبیلی شربت ہی تھا جو آپ کو اپنے پیغام رسالت کی تبلیغ کے لیے آگے ہی آگے لیے جاتا تھا۔کسی قسم کی مخالفت کا ڈر آپ کو باقی نہ رہا تھا۔اس راہ میں مرنا سہل اور آسان معلوم ہوتا تھا۔چنانچہ صحابہؓ اگر موت کو اس راہ میں آسان اور آرام دہ چیز سمجھ نہ لیتے تو کیوں جانیں دیتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ شربت نہیں پیتا ایمان کا ٹھکانا نہیں۔قصور میں ایک شخص قادر بخش تھا بڑا موحد کہلاتا تھا۔گورنمنٹ کی اس وقت اس فرقہ پر ذرا نظر تھی۔ڈپٹی کمشنر نے اس کو ذرا دھمکایا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گھر آکر اس نے رنڈیوں کا ناچ کرا دیا اور اپنے تمام طریق بدل دیئے اس غرض سے کہ تا ظاہر ہو جاوے کہ میں اس فرقہ سے الگ ہوں۔اب بتاؤ کہ ایسا ایمان کیا کام دے سکتا ہے؟ وہ انسان بھی کچھ انسان ہوتا ہے جو خدا سے انسان کو مقدم کر لیتا ہے۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ اس کا ایمان ایک کوڑی قیمت نہیں رکھتا۔یہی وجہ ہے جو ایمان کے برکات اور ثمرات نہیں ملتے۔عام لوگوں اور اہل اللہ کی عبادات میں فرق بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز روزہ کی وجہ سے برکات حاصل نہیں ہوتے۔وہ غلط کہتے ہیں۔نماز روزہ کے برکات اور ثمرات ملتے ہیں اور اسی دنیا میں ملتے ہیں۔لیکن نماز روزہ اور دوسری عبادات کو اس مقام اور جگہ تک پہنچانا چاہیے جہاں وہ برکات دیتے ہیں۔صحابہؓ کا سارنگ پیدا کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور سچی اتباع کرو۔پھر معلوم ہوگا کہ کیا کیا برکات ملتے ہیں۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ صحابہؓ میں ایسا ایمان تھا جو تم میں نہیں۔انہوں نے خدا کے لیے اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔ایسے لوگ قبل از موت مر جاتے ہیں اور قبل اس کے کہ قربانی دیں وہ سمجھتے ہیں کہ دے چکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںکہ کیا ابو بکر (رضی اللہ عنہ ) کا درجہ نماز، روزہ، صدقات اور خیرات کی وجہ سے ہے؟ نہیں بلکہ اس چیز کے ساتھ اس کا درجہ بڑھا ہے جو اس کے دل میں ہے۔