ملفوظات (جلد 8) — Page 205
یہ بھی یاد رکھو کہ ایسی باتیں سننے والا بھی کرنے والا ہی ہوتا ہے جو لوگ زبان سے ایسی باتیں کرتے ہیں وہ تو صریح مؤاخذہ کے نیچے ہیں کیونکہ انہوں نے ارتکاب گناہ کا کیا ہے۔لیکن جو چپکے ہو کر بیٹھے رہے ہیں وہ بھی اس گناہ کے خمیازہ کا شکار ہوں گے اس حصہ کو بڑی توجہ سے یاد رکھو اور قرآن شریف کو بار بار پڑھ کر سوچو۔احسان یہ تو وہ پہلا حصہ ہے نیکی کا۔مگر نیکی اسی پر ختم نہیں۔بعض لوگ ہندوؤں، عیسائیوں اور دوسری قوموں میں بھی پائے جاتے ہیں جو بعض گناہ نہیں کرتے۔مثلاً بعض جھوٹ نہیں بولتے، کسی کا مال ناحق نہیں کھاتے، قرضہ دبا نہیں لیتے بلکہ واپس کرتے ہیں، معاملات معاشرت میں بھی پکے ہوتے ہیں مگر خدا نے فرمایا ہے کہ اتنی ہی بات نہیں جس سے وہ راضی ہو جاوے بدیوں سے بچنا چاہیے اور اس کے بالمقابل نیکی کرنی چاہیے۔اس کے بغیر مخلصی نہیں۔جو اسی پر مغرور ہے کہ وہ بدی نہیں کرتا وہ نادان ہے۔اسلام انسان کو اسی حد تک نہیں پہنچاتا اور چھوڑتا بلکہ وہ دونوں شقیں پوری کرانی چاہتا ہے۔یعنی بدیوں کو تمام و کمال چھوڑ دو اور نیکیوں کو پورے اخلاص سے کرو۔جب تک یہ دونوں باتیں نہ ہوں نجات نہیں ہو سکتی۔مجھے ایک مثال کسی نے بتائی تھی اور وہ صحیح ہے۔کہتے ہیں ایک شخص نے کسی کی دعوت کی اور بڑے تکلف سے اس کی تواضع کی۔جب وہ کھانے سے فراغت پا چکا تو اس سے نہایت عجز اور انکسار سے میزبان نے کہا کہ میں آپ کی شان کے موافق حق دعوت ادا نہیں کر سکا۔آپ مجھے معاف فرمائیں۔مہمان نے سمجھا کہ گویا اس طرح پر احسان جتاتا ہے۔اسے کہا کہ میں نے بھی آپ کے ساتھ بڑی نیکی کی ہے۔اسے تم یاد نہیں رکھتے اس نے کہا کہ وہ کون سی نیکی ہے؟ تو کہا کہ جب تم مہمان داری میں مصروف تھے تو میں تمہارے گھر کو آگ لگا سکتا تھا مگر میں نے کس قدر احسان کیا ہے کہ آگ نہیں لگائی۔یہ بدی کی مثال ہے گویا آگ لگا کر خطرناک نقصان نہیں کیا۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدی نہ کرنے کا احسان جتاتے ہیں۔ایسے لوگ حیوانات کی طرح ہیں۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر وہی لوگ ہیں جو بدی سے پرہیز کر کے ناز نہیں کرتے بلکہ نیکی کر کے بھی کچھ نہیں سمجھتے۔