ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 204

عبادات اور دعاؤں میں قبولیت کا رنگ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ(المائدۃ:۲۸) یعنی بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں ہی کی عبادات کو قبول فرماتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ نماز روزہ بھی متقیوں ہی کا قبول ہوتا ہے ان عبادات کی قبولیت کیا ہے اور اس سے مراد کیا ہے؟ عبادات کی قبولیت سے مراد سو یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نماز قبول ہوگئی ہے تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ نماز کے اثرات اور برکات نماز پڑھنے والے میں پیدا ہوگئے ہیں جب تک وہ برکات اور اثرات پیدا نہ ہوں اس وقت تک نری ٹکریں ہی ہیں۔اس نماز یا روزہ سے کیا فائدہ ہوگا جبکہ اسی مسجد میں نماز پڑھی اور وہیں کسی دوسرے کی شکایت اور گلہ کر دیا یا رات کو چوری کر دی، کسی کے مال یا امانت میں خیانت کر لی، کسی کی شان پر جو خدا تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے بخل اور حسد کی وجہ سے حملہ کر دیا، کسی کی آبرو پر حملہ کر دیا۔غرض اس قسم کے عیبوں اور بُرائیوں میں اگر مبتلا کا مبتلا رہا تو تم ہی بتاؤ اس نماز نے اس کو کیا فائدہ پہنچایا؟ چاہیے تو یہ تھا کہ نماز کے ساتھ اس کی بدیاں اور وہ برائیاں جن میں وہ مبتلا تھا کم ہوجاتیں اور نماز اس کے لیے ایک عمدہ ذریعہ ہے۔پس پہلی منزل اور مشکل اس انسان کے لیے جو مومن بننا چاہتا ہے یہی ہے کہ بُرے کاموں سے پرہیز کرے۔اسی کا نام تقویٰ ہے۔اور یہ بھی یاد رکھو کہ تقویٰ اس کا نام نہیں کہ موٹی موٹی بدیوں سے پرہیز کرے۔بلکہ باریک در باریک بدیوں سے بچتا رہے مثلاً ٹھٹھے اور ہنسی کی مجلسوں میں بیٹھنا یا ایسی مجلسوں میں بیٹھنا جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہتک ہو یا اس کے بھائی کی شان پر حملہ ہو رہا ہو اگرچہ ان کی ہاں میں ہاں بھی نہ ملائی ہو مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی بُرا ہے کہ ایسی باتیں کیوں سنیں؟ یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کے دلوں میں مرض ہے کیونکر اگر ان کے دل میں بدی کی پوری حس ہوتی تو وہ کیوں ایسا کرتے اور کیوں ان مجلسوں میں جا کر ایسی باتیں سنتے؟