ملفوظات (جلد 8) — Page 199
برخلاف اس کے کسی دوسرے مذہب والے کو یہ حوصلہ اور ہمت کہاں ہے کہ وہ ایسے تازہ بتازہ نشان پیش کرے۔جماعت کے لوگ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر نشانات ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔یہ محض خدا کا کاروبار ہے کسی اور کو اس میں دخل نہیں۔نشانات کا مقصد یقیناً سمجھو کہ اللہ تعالیٰ ان پیشگوئیوں کے ساتھ دکھاتا ہے کہ ایمانی قوت بڑھ جاوے اور یہ قوت بغیر ایسے نشانوں کے بڑھ نہیں سکتی کیونکہ ان میں خدا تعالیٰ کا زبردست ہاتھ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔انسان ایسا جاندار ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے تربیتِ ایمانی کے لیے فیوض و برکات نہ ہوں وہ خود بخود پاک صاف نہیں ہو سکتا۔اور حقیقت میں پاک صاف ہونا اور تقویٰ پر قدم مارنا آسان امر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے یہ نعمت ملتی ہے۔تقویٰ اور احسان اور سچی تقویٰ جس سے خدا تعالیٰ راضی ہو اس کے حاصل کرنے کے لیے بار بار اللہ تعالیٰ نے فرمایا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ ( اٰلِ عـمران:۱۰۳) اور پھر یہ بھی کہا اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ(النحل:۱۲۹) یعنی اللہ تعالیٰ ان کی حمایت اور نصرت میں ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔تقویٰ کہتے ہیں بدی سے پرہیز کرنے کو۔اور محسنون وہ ہوتے ہیں جو اتنا ہی نہیں کہ بدی سے پرہیز کریں بلکہ نیکی بھی کریں اور پھر یہ بھی فرمایا لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى (یونس:۲۷) یعنی ان نیکیوں کو بھی سنوار سنوار کر کرتے ہیں۔مجھے یہ وحی بار بار ہوئی اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ اور اتنی مرتبہ ہوئی ہے کہ میں گن نہیں سکتا۔خدا جانے دو ہزار مرتبہ ہوئی ہو۔اس سے غرض یہی ہے کہ تاجماعت کو معلوم ہو جاوے کہ صرف اس بات پر ہی فریفتہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس جماعت میں شامل ہوگئے ہیں یا صرف خشک خیالی ایمان سے راضی ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت اسی وقت ملے گی جب سچی تقویٰ ہو اور پھر نیکی ساتھ ہو۔یہ فخر کی بات نہیں کہ انسان اتنی ہی بات پر خوش ہوجاوے کہ مثلاً وہ زنا نہیں کرتا۔یا اس نے