ملفوظات (جلد 8) — Page 198
تو ان سے تھکنا نہیں اور ان سے کسی قسم کی بد اخلاقی نہ کرنا۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب لوگوں کی کثرت ہوتی ہے تو انسان ان کی ملاقات سے گھبرا جاتا ہے اور کبھی بے توجہی کرتا ہے جو ایک قسم کی بد اخلاقی ہے پس اس سے منع کیا اور کہا کہ ان سے تھکنا نہیں اور مہمان نوازی کے لوازم بجالانا۔ایسی حالت میں خبر دی گئی تھی کہ کوئی بھی نہ آتا تھا اور اب تم سب دیکھ لو کہ کس قدر موجود ہو۔یہ کتنا بڑا نشان ہے؟ اس سے اللہ تعالیٰ کا عالم الغیب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ایسی خبر بغیر عالم الغیب خدا کے کون دے سکتا ہے۔نہ کوئی منجم نہ کوئی فراست والا کہہ سکتا ہے۔ان حالات پر جب ایک سعید مومن غور کرتا ہے تو اسے لذت آتی ہے وہ یقین کرتا ہے کہ ایک خدا ہے جو اعجازی خبریں دیتا ہے۔غرض اس خبر میں اس نے کثرت کے ساتھ مہمانوں کی آمد رفت کی خبر دی۔پھر چونکہ ان کے کھانے پینے کے لیے کافی سامان چاہیے تھا اور ان کے فروکش ہونے کے لیےمکانوں کا انتظام ہونا چاہیے تھا۔پس اس کے لیے بھی ساتھ ہی خبر دی یَاْتِیْکَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔اب غور کرو کہ جس کام کو اللہ تعالیٰ نے خود کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اور ارادہ کر لیا ہے کون ہے جو اس کی راہ میں روک ہو۔وہ خود ساری ضرورتوںکا تکفّل اور تہیہ کرتا ہے۔یہ بات انسانی طاقت سے باہر ہے کہ اس قدر عرصہ پہلے ایک واقعہ کی خبر دے کہ ایک بچہ بھی پیدا ہو کر صاحبِ اولاد ہو سکتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان معجزہ ہے۔یہی وجہ ہے جو خدا تعالیٰ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ صادق کی نشانی پیشگوئی ہے اور یہ بہت بڑا نشان ہے جس پر غور کرنا چاہیے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان تدبّر اور غور سے بڑھتا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نشانوں پر غور نہیں کرتے ان کا قدم پھسلنے والی جگہ پر ہوتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ انسان اپنے ایمان میں اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ کے اقوال، افعال اور قدرتوں کو نہ دیکھے۔پس یہ سلسلہ اسی غرض کے لیے قائم ہوا ہے تا اللہ تعالیٰ پر ایمان بڑھے۔یہ نشان جو میں نے ابھی پیش کیا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ایسا زبردست ہے کہ کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔