ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 171

مسیح کی موت بقول ان مخالف مسلمانوں کے ثابت نہیں کیونکہ توفّی کے معنے تو آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے کرتےہو۔اس لیے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المائدۃ:۱۱۸) میں بھی یہی معنے کرنےپڑیں گے کہ جب تو نے مجھے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔اور کوئی آیت ثابت نہیں کرتی کہ اس کی موت بھی ہوگی۔پھر بتاؤ کہ ان کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے اور وہ اپنی غلطی کو سمجھیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ مسلمان کہلا کر اس عقیدہ کی کمزوری اور شناعت کے کھل جانے پر بھی اس کو نہیں چھوڑتے وہ دشمنِ اسلام اور اس کے لیے مارِ آستیں ہیں۔یاد رکھو! اللہ تعالیٰ بار بار قرآن شریف میں مسیح کی موت کا ذکر کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ وہ دوسرے نبیوں اور انسانوںکی طرح وفات پاچکے۔کوئی امر ان میں ایسا نہ تھا جو دوسرے نبیوں اور انسانوں میں نہ ہو۔یہ بالکل سچ ہے کہ توفّی کے موت ہی معنے ہیں۔کسی لغت سے یہ ثابت نہیں کہ توفّی کے معنے کبھی آسمان پر مع جسم اٹھانے کے بھی ہوتے ہیں۔زبان کی خوبی لغات کی توسیع پر ہے۔دنیا میں کوئی لغت ایسی نہیں ہے جو صرف ایک کےلیے ہو اور دوسرے کے لیے نہ ہو۔ہاں خدا تعالیٰ کے لیے یہ خصوصیت ضرور ہے اس لیے کہ وہ وحدہٗ لا شریک خدا ہے۔لغت کی کوئی کتاب پیش کرو جس میں توفّی کےیہ معنے خصوصیت سے حضرت عیسیٰ کے لیے کہے ہوئے ہوں کہ زندہ آسمان پر مع جسم اٹھانا ہے اور سارے جہان کے لیےجب یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے موت کے ہوں گے اس قسم کی خصوصیت لغت کی کسی کتاب میں دکھاؤ۔اور اگر نہ دکھا سکو اور نہیں ہے تو پھر خدا تعالیٰ سے ڈرو کہ یہ مبدأ شرک ہے۔اس غلطی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عیسائیوں کے مدیون ٹھیرتےہیں۔اگر عیسائی یہ کہیں کہ جس حال میں تم مسیح کو زندہ تسلیم کرتے ہو کہ وہ آسمان پر ہے اور پھر اس کا آنا بھی مانتےہو اور یہ بھی کہ وہ حکم ہو کر آئے گا۔اب بتاؤ کہ اس کے خدا ہونے میں کیا شبہ رہا جبکہ یہ بھی ثابت نہ ہو کہ اس کو موت ہوگی یہ کہنا بڑا مصیبت کا امر ہو کہ عیسائی سوال کرے اور اس کا جواب نہ ہو۔غرض اس غلطی کا اثر بد اب یہاں تک بڑھ گیا۔یہ تو سچ ہے کہ دراصل مسیح کی موت کا مسئلہ ایسا عظیم الشان نہ تھا کہ اس کے لیے ایک عظیم الشان مامور کی ضرورت ہوتی۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ