ملفوظات (جلد 8) — Page 170
خطرناک امر ہوگیا۔انہوں نے بار بار اور بڑے زور سے اس امر کو پیش کیا کہ اگر مسیح خدا نہیں تو وہ عرش پر کیسے بیٹھا ہے؟ اور اگر انسان ہو کر کوئی ایسا کر سکتا ہے کہ زندہ آسمان پر چلا جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی بھی آسمان پر نہیں گیا؟ اس قسم کے دلائل پیش کر کے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور انہوں نے بنایا اور دنیا کے ایک حصہ کو گمراہ کر دیا۔اور بہت سے مسلمان جو تیس لاکھ سے زیادہ بتائے جاتےہیں اس غلطی کو صحیح عقیدہ تسلیم کرنے کی وجہ سے اس فتنہ کا شکار ہوگئے۔اب اگر یہ بات صحیح ہوتی اور درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے جاتے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں اور مسلمان اپنی غلطی اور ناواقفی سے ان کی تائید کرتے ہیں تو پھر اسلام کےلیے تو ایک ماتم کا دن ہوتا۔کیونکہ اسلام تو دنیا میں اس لیے آیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دنیا کو ایک ایمان اور یقین پیدا ہو اور اس کی توحید پھیلے۔وہ ایسا مذہب ہے کہ کوئی کمزوری اس میں پائی نہیں جاتی اور نہیں ہے۔وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو وحدہٗ لاشریک قرار دیتا ہے۔کسی دوسرے میں خصوصیت تسلیم کی جاوے تو یہ تو اللہ تعالیٰ کی کسر شان ہے اور اسلام اس کو روا نہیں رکھتا۔مگر عیسائیوں نے مسیح کی اس خصوصیت کو پیش کر کے دنیا کو گمراہ کر دیا ہے اور مسلمانوں نے بغیر سوچے سمجھے ان کی اس ہاں میں ہاں ملا دی اور اس ضرر کی پروا نہ کی جو اس سے اسلام کو پہنچا۔اس بات سے کبھی دھو کا نہیں کھانا چاہیے جو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ مسیح کو زندہ آسمان پر اٹھا لے جاوے؟ بیشک وہ قادر ہے مگر وہ ایسی باتوں کو کبھی روا نہیں رکھتا جو مبدأ شرک ہو کر کسی کو شریک الباری ٹھہراتی ہوں اور یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک شخص کو بعض وجوہ کی خصوصیت دینا صریح مبدأ شرک ہے۔پس مسیح علیہ السلام میں یہ خصوصیت تسلیم کرنا کہ وہ تمام انسانوں کے برخلاف اب تک زندہ ہیں اور خواص بشری سے الگ ہیں یہ ایسی خصوصیت ہے جس سے عیسائیوں کو موقع دیا کہ وہ ان کی خدائی پر اس کو بطور دلیل پیش کریں۔اگر کوئی عیسائی مسلمانوں پر یہ اعتراض کرے کہ تم ہی بتاؤ کہ ایسی خصوصیت اس وقت کسی اور شخص کو بھی ملی ہے؟ تو اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہے۔اس لیے کہ وہ یقین کرتے ہیں کہ سب انبیاء علیہم السلام مر گئے ہیں مگر