ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 146

اور دوسری شہوات میں لذت اٹھاتے ہیں اس سے بہت بڑھ چڑھ کر وہ مومن متقی نماز میں لذت پاتا ہے۔اس لیے نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے۔نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ، راستباز، ابدال، قطب گذرے ہیں۔انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیونکر حاصل کئے؟ اسی نماز کے ذریعہ سے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کے لیے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ہیں۔پس کشاکش نفس سے انسان نجات پاکر اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔غرض یاد رکھو کہ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وہ ابتدائی درجہ اور مرحلہ ہے جہاں نماز بے ذوقی اور کشاکش سے ادا کرتا ہے۔لیکن اس کتاب کی ہدایت ایسے آدمی کے لیے یہ ہے کہ اس مرحلہ سے نجات پاکر اس مقام پر جا پہنچتا ہے جہاں نماز اس کے لیے قرۃ ُالعین ہوجاوے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس مقام پر متقی سے مراد وہ شخص ہے جو نفسِ لوّامہ کی حالت میں ہے۔نفس کے تین درجے نفس کے تین درجہ ہیں۔نفسِ امّارہ۔لوّامہ۔مطمئنّہ نفسِ امّارہ وہ ہے جو فسق و فجور میںمبتلا ہے اور نافرمانی کا غلام ہے۔ایسی حالت میں انسان نیکی کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر ایک سرکشی اور بغاوت پائی جاتی ہے لیکن جب اس سے کچھ ترقی کرتا اور نکلتا ہے تو وہ وہ حالت ہے جو نفسِ لوّامہ کہلاتی ہے۔اس لیے کہ وہ اگر بدی کرتا ہے تو اس سے شرمندہ بھی ہوتا ہے اور اپنے نفس کو ملامت بھی کرتا ہے۔اور اس طرح پر نیکی کی طرف بھی توجہ کرتا ہے۔لیکن اس حالت میں وہ کامل طور پر اپنے نفس پر غالب نہیں آتا بلکہ اس کے اور نفس کے درمیان ایک جنگ جاری رہتی ہے جس میں کبھی وہ غالب آجاتا ہے اور کبھی نفس اسے مغلوب کر لیتا ہے۔یہ سلسلہ لڑائی کا بدستور جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دستگیری کرتا ہے اور آخر اسے کامیاب اور بامراد کرتا ہے اور وہ اپنے نفس پر فتح پا لیتا