ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 145

ہے۔یعنی کبھی اس کی نماز گر پڑتی ہے پھر اسے کھڑا کرتا ہے۔یعنی متقی خدا سے ڈرا کرتا ہے اور وہ نماز کو قائم کرتا ہے۔اس حالت میں مختلف قسم کے وساوس اور خطرات بھی ہوتے ہیں جو پیدا ہو کر اس کے حضور میں ہارج ہوتے ہیں اور نماز کو گرا دیتے ہیں۔لیکن یہ نفس کی اس کشاکش میں بھی نماز کو کھڑا کرتا ہے۔کبھی نماز گرتی ہے مگر یہ پھر اسے کھڑا کرتا ہے۔اور یہی حالت اس کی رہتی ہے کہ وہ تکلّف اور کوشش سے بار بار اپنی نماز کو کھڑا کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس کلام کے ذریعہ ہدایت عطا کرتا ہے۔اس کی ہدایت کیا ہوتی ہے؟۱ اس وقت بجائے يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ کے ان کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ وہ اس کشمکش اور وساوس کی زندگی سے نکل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ انہیں وہ مقام عطا کرتا ہے جس کی نسبت فرمایا ہے کہ بعض آدمی ایسے کامل ہوجاتے ہیں کہ نماز ان کےلیے بمنزلہ غذا ہوجاتی ہے اور نماز میں ان کو وہ لذت اور ذوق عطا کیا جاتا ہے جیسے سخت پیاس کے وقت ٹھنڈا پانی پینے سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ نہایت رغبت سے اسے پیتا ہے اور خوب سیر ہو کر حظّ حاصل کرتا ہے یا سخت بھوک کی حالت ہو اور اسے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا خوش ذائقہ کھانا مل جاوے جس کو کھا کر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے۔یہی حالت پھر نماز میں ہو جاتی ہے وہ نماز اس کے لیے ایک قسم کا نشہ ہوجاتی ہے جس کے بغیر وہ سخت کرب و اضطراب محسوس کرتا ہے۔لیکن نماز کے ادا کرنے سے اس کے دل میں ایک خاص سرور اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے جس کو ہر شخص نہیں پاسکتا اور نہ الفاظ میں یہ لذت بیان ہو سکتی ہے اور انسان ترقی کر کے ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اسے ذاتی محبت ہوجاتی ہے اور اس کو نماز کے کھڑے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اس لیے کہ وہ نماز اس کی کھڑی ہی ہوتی ہے اور ہر وقت کھڑی ہی رہتی ہے۔اس میں ایک طبعی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے انسان کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہوتی ہے۔انسان پر ایسی حالت آتی ہے کہ اس کی محبت اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی کا رنگ رکھتی ہے۔اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔جس طرح پر حیوانات اور دوسرے انسان اپنے ماکولات و مشروبات ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۴،۵