ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 124

قبروں پر جانے کی ابتداً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالفت کی تھی جب بُت پرستی کا زور تھا۔آخر میں اجازت دے دی۔مگر عام قبروں پر جا کر کیا اثر ہوگا جن کو جانتے ہی نہیں لیکن جو دوست ہیں اور پارسا طبع ہیں ان کی قبریں دیکھ کر دل نرم ہوتا ہے۔اس لیے اس قبرستان میں ہمارا ہردوست جو فوت ہو اس کی قبر ہو۔میرے دل میں خدا تعالیٰ نے پختہ طور پر ڈال دیا ہے کہ ایسا ہی ہو۔جو خارجاً مخلص ہو اور وہ فوت ہو جاوے اور اس کا ارادہ ہو کہ اس قبرستان میں دفن ہو وہ صندوق میں دفن کر کے یہاں لایا جاوے۔اس جماعت کو بہ ہیئت مجموعی دیکھنا مفید ہوگا۔اس کے لیے اوّل کوئی زمین لینی چاہیے اور میں چاہتا ہوں کہ باغ کے قریب ہو۔فرمایا۔عجیب مؤثر نظارہ ہوگا جو زندگی میں ایک جماعت تھے مرنے کے بعد بھی ایک جماعت ہی نظر آئے گی۔یہ بہت ہی خوب ہے جو پسند کریں وہ پہلے سے بندوبست کر سکتے ہیں کہ یہاں دفن ہوں۔جو لوگ صالح معلوم ہوں ان کی قبریں دور نہ ہوں۔ریل نے آسانی کا سامان کر دیا ہے اور اصل تو یہ ہے کہ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ(لقمان:۳۵) مگر اس میں یہ کیا لطیف نکتہ ہے کہ بِاَیِّ اَرْضٍ تُدْفَنُ نہیں لکھا۔صلحاء کے پہلو میں دفن بھی ایک نعمت ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ مرض الموت میں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہلا بھیجا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں جو جگہ ہے انہیں دی جاوے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایثار سے کام لے کر وہ جگہ ان کو دے دی تو فرمایا مَا بَقِیَ لِیْ ھَمٌّ بَعْدَ ذَالِکَ یعنی اس کے بعد اب مجھے کوئی غم نہیں جبکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ میں مدفون ہوں۔مجاورت بھی خوشحالی کا موجب ہوتی ہے۔میں اس کو پسند کرتا ہوں۔اور یہ بدعت نہیں کہ قبروں پر کتبے لگائے جاویں۔اس سے عبرت ہوتی ہے اور ہر کتبہ جماعت کی تاریخ ہوتی ہے۔ہماری نصیحت یہ ہے کہ ایک طرح سے ہر شخص گور کے کنارے ہے کسی کو موت کی اطلاع مل گئی اور کسی کو اچانک آجاتی ہے یہ گھر ہے بےبنیاد۔بہت سے لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے گھر بالکل ویران ہوجاتےہیں۔ایسے واقعات کو انسان دیکھتا ہے۔جب تک مٹی ڈالتا ہے دل نرم ہوتا ہے۔پھر دل سخت ہوجاتا ہے یہ بد قسمتی ہے۔۱ ۱الحکم جلد ۱۳ نمبر ۱ مورخہ ۷؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۳