ملفوظات (جلد 8) — Page 123
انہوںنے آپ کی وفات کو قبل از وقت سمجھا مگر ابوبکرؓ کی فراست صحیح تھی۔طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعِ۔مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق جو الہام ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب نصرت الٰہی ظاہر ہو۔میرا مذہب یہی ہے کہ طولِ امل کے طور پر کچھ نہیں کرنا چاہیے۔انبیاء علیہم السلام جس قدر آئے ہیں وہ تخم ریزی کر جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں اشاعت اسلام کی اور ان میں سے بھی بعض اَسْلَمْنَا میں داخل تھے۔یہ گویا تخم ریزی تھی۔وفات پاجانے والے چند اصحاب کا ذکر خیر مولوی برہان الدین مرحوم کے متعلق فرمایا کہ وہ اوّل ہی اوّل ہوشیار پور میں میرے پاس گئے۔ان کی طبیعت میں حق کے لیے ایک سوزش اورجلن تھی۔مجھ سے قرآن شریف پڑھا۔بائیس برس سے میرے پاس آتے تھے۔صوفیانہ مذاق تھا۔جہاں فقراء کو دیکھتے وہیں چلے جاتے۔میرے ساتھ بڑی محبت رکھتے تھے۔میں چاہتا ہوں کہ ماتم پرسی کے لیے لکھ دوں۔بہتر ہے کہ ان کا جو لڑکا ہو وہ یہاں آجاوے تاکہ وہ باپ کی جابجا ہو۔اسے لکھو کہ وہ دین کی تکمیل کرے کیونکہ باپ کی ہی روش پر ہونا چاہیے۔منشی جلال الدین بھی بڑے مخلص تھے اور ان کے ہمنام پیر کوٹ والے بھی۔دونوں میں سے ہم کسی کو ترجیح نہیں دے سکتے۔سال گذشتہ میں ہمارے کئی دوست جدا ہوگئے۔مولوی جمال الدین سید والہ بھی۔مولوی شیر محمد ہوجن والے بھی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ میں کوئی مصالح رکھے ہوں گے۔اس سال میں حزن کے معاملات دیکھنے پڑے۔۱ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ء ایک مثالی قبرستان کی تجویز میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے لیے ایک زمین تلاش کی جاوے جو قبرستان ہو۔یادگار ہو اور عبرت کا مقام ہو۔۱ الحکم جلد ۱۳ نمبر ۱ مورخہ ۷؍جنوری ۱۹۰۹ءصفحہ ۱۳