ملفوظات (جلد 8) — Page 119
کہ قبور سے استفاضہ ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ امر بطریق شرک نہ ہو جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔دارِ فانی فرمایا۔ہماری نصیحت یہی ہے کہ ہر شخص گور کے کنارے بیٹھا ہے۔یہ الگ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اطلاع دے دے اور کسی کو اچانک موت آجاوے۔مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ گھر ہے بے بنیاد۔بہت سے لوگ دیکھے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گھر کے سارے آدمیوں کو مٹی میں دبایا اور اولادوں کو دفن کیا مگر کچھ ایسے سخت دل ہوتے ہیں کہ وہ موت ان پر اثر نہیں کرتی اور تبدیلی ان میںنہیں پائی جاتی۔یہ بد قسمتی ہے۔یہ تماشا سلاطین کےہاں بہت دیکھا جاتا ہے۔لاکھوں لاکھ خون ہوجاتے ہیں اور ان پر کوئی اثر نہیں۔مساکین سے مال لیتے ہیں اور خود عیش کرتے ہیں۔بڑی بھاری غفلت کا نمونہ ان کے ہاں دیکھا جاتا ہے۔۱ بلا تاریخ مولوی برہان الدین صاحب مرحوم حضرت کی خدمت میں جب مولوی صاحب۲ کا ذکر آیا تو فرمایا کہ مولوی صاحب ایک صوفی مشرب آدمی تھے۔اکثر فقراء اور بزرگوں کی خدمت میں جایا کرتے تھے۔مولوی عبد اللہ صاحب کے استاد کے پاس بھی ایک مدت تک رہے تھے۔ان کو ایک فقر کی چاشنی تھی۔قریباً بائیس برس سے میرے پاس آیا کرتے تھے۔پہلی دفعہ جب آئے تو میں ہوشیار پور میں تھا۔اسی جگہ میرے پاس پونچے۔ایک سوزش اور جذب ان کے اندر تھا۔اور ہمارے ساتھ ایک مناسبت رکھتے تھے۔انہوں نے مجھ سے ایک دفعہ قرآن شریف پڑھنا شروع کیا تھا۔مگر صرف چند سطریں پڑھی تھیں۔ایک صوفیانہ مذاق رکھتے تھے۔ان کے بیٹے کو چاہیے کہ تکمیل اور تحصیل علوم دینی کی کرے اور اپنے باپ کی طرح خادم دین بنے اور بہتر ہے کہ اس جگہ ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲تا۴ ۲’’حضرت مولوی برہان الدین صاحبؓ‘‘(مرتّب)