ملفوظات (جلد 8) — Page 104
ڈالیں تاکہ کوئی سننے نہ پائے۔اور جن میں غزنوی گروہ اور مولوی ثناء اللہ کی پارٹی کے آدمی شامل تھے۔ایک بڑا ہنگامہ اور شور مچایا اور بعض نے تالیاں بجائیں اور سیٹیاں ماریں اور بعض نے گالیاں فحش دینی شروع کر دیں۔امرتسر کے رؤساء نے کھڑے ہو کر بار بار انکو سمجھایا اور پولیس نے بہت بٹھانا اور خاموش کرنا چاہامگر کسی نے ایک نہ مانی اور اس قدر شور برپا کیا کہ لیکچر کو بند کرنا پڑا اور لوگوں کو منتشر کرنا چاہا مگر نہ ہوئے۔اور جب حضرت گاڑی پر سوار ہونے لگے تو پتھر اور اینٹیں بارش کی مانند برسانی شروع کیں۔یہ خدا کی حفاظت تھی کہ ہم سب بچ گئے ورنہ ہم پر پتھر اس طرح پڑ رہے تھے جس طرح طائف والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکے تھے۔حضرت نے اسی جگہ فرمایا۔ضرور تھا کہ یہ سنت بھی پوری ہوتی کیونکہ تمام نبیوں کے ساتھ یہ حالت ہوتی رہی ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ کے وقت بھی یہ منصوبہ بازی کی گئی تھی کہ جب قرآن شریف پڑھا جاوے تو درمیان میں شور ڈال دو تاکہ کوئی شخص قرآن شریف نہ سن سکے۔۱ ۲۰؍نومبر ۱۹۰۵ء (قبل ظہر ) دو تا زہ الہامات آجکل اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کا علی العموم معمول ہے کہ صبح کو دس بجے کے قریب نئے مہمان خانہ میں جہاں سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب نزیل ہیں تشریف لے آتے ہیں دوسرے احباب بھی حاضر ہوجاتے ہیں اور ۱۲ بجے کے قریب تک وہاں بیٹھے رہتے ہیں۔کل آپ نے قبل ظہر اپنا تازہ الہام سنایا جو ۱۹؍کی شب کو ہوا۔فرمایا۔رات عجیب طرز کا الہام تھا۔اگرچہ اس سے پہلے اس مفہوم کا ایک الہام ہو چکا ہے مگر یہ طرز عجیب ہے اِنِّیْ مَعَکَ یَا ابْنَ رَسُوْلِ اللہِ۔دوسرا الہام اس کے ساتھ یہ ہے سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلٰی دِیْنٍ وَّاحِدٍ۔۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴