ملفوظات (جلد 7) — Page 91
الہام رحمانی اور شیطانی میں تمیز کی ضرورت بعض لوگ یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ الہام شیطانی بھی ہوتا ہے اور رحمانی بھی مگر ہم کہتے ہیں کہ آخر کوئی تمیز بھی ہے یا نہیں۔اگر کلام رحمانی ا ور شیطانی میں کوئی تمیز نہ رکھیں گے تو پھر وہ بتلاویں کہ رحمان کی عزت کیا ہوئی۔کیا ان کے نزدیک رحمان اور شیطان میں کوئی فرق ہے یا کہ مساوات ہے؟ اگر فرق ہے تو دونوں کے کلام میں کیوں فرق تسلیم نہیں کر تے؟ حالانکہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مختلف مدارج کے لوگوں کے کلام میں ایک فرق بیّن ہوتا ہے تو کیا خالق کی کلام مخلوق کی کلام سے بھی اس درجہ گری ہوئی ہوگی کہ اس میں کوئی تمیز نہ ہوگی۔یہی وجہ ہے نہ ہمارا اور کسی اور اکابر دین کا یہ مذہب ہوا ہے کہ رحمانی اور شیطانی الہام ایک ہی صورت رکھتے ہیں۔اگر اس امت میں مامورین و مرسلین نہ آویں تو بتلاؤ کہ اس میں اور دوسری امتوں میں فرق کیا ہوا؟ جس طریق سے ہم مانتے ہیں اس طریق سے عظمت قرآن شریف کی اور خاتم الانبیاء کی ظاہر ہوتی ہے۔تعجب کی بات ہے کہ حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل در آمد کے لئے تو نبی اور رسول مبعوث ہوں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ایسی ہوئی کہ کوئی نبی اور رسول اس پر عمل در آمد کے لئے نہ آوے۔یاد رکھو کہ جس دین میں روحانیت نہ رہے تو وہ قابل جلانے کے ہوتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے باغ میں ایک درخت ہو اور وہ بالکل خشک ہوگیا ہو نہ کوئی پھل دیتا ہے نہ اس کا سایہ ہے نہ کوئی پھول ہی نکلتا ہے تو آخر باغبان سوائے اس کے اور کیا کرے گا کہ اسے کاٹ کر جلا دے کیونکہ اب تو وہ حطب ہے نہ کہ شجر۔اور ہمیں ان لوگوں کی باتوں کی پروا ہی کیا ہے جو کاروبار آسمانی ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔فقط جادو والا مکان ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک مکان میں جانا چاہتا ہوں مگر لوگ کہتے ہیں کہ اس میں جنّات ہوتے ہیں اور جادو کا اثر ہے۔آپ نے فرمایا کہ مومن کے پاس جنّ اور شیطان نہیں آتا۔