ملفوظات (جلد 7) — Page 90
تکرار کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ منعم علیہ گروہ میں تو انبیاءؑ بھی ہیں اور دوسرے صلحاءوغیرہ جن پر خدا نے انعام وحی کیا تھا اور وہ تو اب ہونی نہیں تو پھر اس دعا کا کیا فائدہ؟ یہ تو ظاہر ہے کہ انبیاء اور رسل پر انعام الٰہی مال و دولت کے رنگ میں نہیں ہوتے اور نہ وہ ان باتوں کے لئے دنیا میں آتے ہیں بلکہ اس کے برعکس فقر و فاقہ کو پسند کرتے ہیں تو آخر پھر ماننا پڑے گا کہ صرف مکالمات اور مخاطبات الٰہی کا انعام ہی ان پر تھا اور قرآن شریف سے بھی یہی ظاہر ہے تو اب اس کا سلسلہ منقطع کرنا کس قدر کفر کی بات ہے۔علاوہ اس کے ہمیں باوجود اس ایمان کے کہ یہ امت خیرالامت ہے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں اس امت کے مردوں سے بدرجہا اچھی ٹھیریں کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں سے خدا تعالیٰ نے کلام کی اور اس کو وحی کی۔پھر بتلاؤ کہ جب اس امت کے رجال اسرائیلی امت کی عورتوں کی مانند بھی نہ ہوئے حالانکہ بڑھ کر ہونے چاہئیں تو اس کا نام خیرالامت کی جگہ شر الامت ہوا یا کہ نہیں۔اور یہ کفر ہے یا کہ نہیں۔ایمان کا ستون تو یقین ہے اور وہ وحی اور الہام سے حاصل ہوتا ہے۔پھر جب وحی نہ رہی اور صرف باتیں اور قصے ہی رہ گئے اور آسمانی اور روحانی امور بالکل نہ رہے تو رہا کیا۔قاعدہ کی بات ہے کہ انسان کے ہاتھ میں جب تک کسی بات کی نظیر(نمونہ) نہ رہے تو رفتہ رفتہ وہ اس سے منکر ہوجاتا ہے اسی لیے خد اتعالیٰ نے اسلام میں یہ انتظام کیا ہے کہ اس میں صاحب الہام و وحی ہوتے رہتے ہیں تاکہ ان نمونوں کو دیکھ کر شجر ایمان و یقین ہمیشہ تر و تازہ رہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذّٰریٰت:۵۷) کے یہ معنے ہیں کہ جنّ و انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ معرفت الٰہی حاصل کریں۔اب جب کہ آواز ہی خدا کی طرف سے نہ آئی تو پھر معرفت کیا ہوئی اور انسانی خلقت سے جو اصل مطلب تھا وہ پورا نہ ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بھی بڑی علّتِ غائی یہی تھی کہ معرفت تامہ حاصل ہو۔پھر ہم کہتے ہیں کہ مکالمہ اور مخاطبہ الٰہی کا ایسا مسئلہ ہے کہ کل اکابروں کا اس سے اتفاق ہے۔سید عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ بھی یہی کہتے ہیں۔ذرا فتوح الغیب کو دیکھو پھر اس حدیث کے کیا معنے ہوئے کہ میں اپنے بندے کی زبان ہوجاتا ہوں؟