ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 41

خاتمہ بالخیر ایسا امر ہے کہ اس کی راہ میں بہت سے کانٹے ہیں۔جب انسان دنیا میں آتا ہے تو کچھ زمانہ اس کا بے ہوشی میں گذر جاتا ہے۔یہ بے ہوشی کا زمانہ وہ ہے جبکہ وہ بچہ ہوتا ہے اور اس کو دنیا اور اس کے حالات سے کوئی خبر نہیں ہوتی۔اس کے بعد جب ہوش سنبھالتا ہے تو ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ وہ بے ہوشی تو نہیں ہوتی جو بچپن میں تھی۔لیکن جوانی کی ایک مستی ہوتی ہے جو اس ہوش کے دنوں میں بھی بے ہوشی پیدا کر دیتی ہے اور کچھ ایسا از خود رفتہ ہوجاتا ہےکہ نفسِ امّارہ غالب آجاتا ہے۔اس کے بعد پھر تیسرا زمانہ آتا ہے۱ کہ علم کے بعد پھر لاعلمی آجاتی ہے اور حواس میں اور دوسرے قویٰ میں فتور آنے لگتا ہے۔یہ پیرانہ سالی کا زمانہ ہے۔بہت سے لوگ اس زمانہ میں بالکل حواس باختہ ہوجاتے ہیں اور قویٰ بیکار ہوجاتے ہیں۔اکثر لوگوں میں جنون کا مادہ پیداہوجاتا ہے۔ایسے بہت سے خاندان ہیں کہ ان میں سا۶۰ٹھ یا ستر۷۰ سال کے بعد انسان کے حواس میں فتور آجاتا ہے۔غرض اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی قویٰ کی کمزوری اور طاقتوں کے ضائع ہوجانے سے انسان ہوش میں بےہوش ہوتا ہے۲ اور ضعف و تکاہل اپنا اثر کرنے لگتا ہے۔انسان کی عمر کی تقسیم انہیں تین زمانوں پر ہے اور یہ تینوں ہی خطرات اور مشکلات میں ہیں۔پس اندازہ کرو کہ خاتمہ بالخیر کے لیے کس قدر مشکل مرحلہ ہے۔بچپن کا زمانہ تو ایک مجبوری کا زمانہ ہے۔اس میں سوائے لہو لعب اور کھیل کود اور چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے اور کوئی خواہش ہی نہیں ہوتی۔ساری خواہشوں کا منتہا کھانا پینا ہی ہوتاہے۔دنیا اور اس کے حالات سے محض ناواقف ہوتا ہے۔امورِ آخرت سے بکلّی ناآشنا اور لاپروا ہوتا ہے۔عظیم الشان امور کی اسے کوئی خبر ہی نہیںہوتی۔وہ نہیں جانتا کہ دنیا میں اس کے آنے کی کیا غرض