ملفوظات (جلد 7) — Page 39
عذاب تمہاری گردن پر ہے۔۲ ۲۰؍دسمبر ۱۹۰۴ء (بوقتِ ظہر) اپنے نیک انجام پر پختہ یقین ظہر کے وقت حضرت اقدسؑ تشریف لائے۔مقدمہ کے ذکر پر فرمایا کہ خواہ کچھ ہی ہو ہم تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور اس پر راضی ہیں۔ع ہرچہ از دوست می رسد نیکوست لیکن ہمارا ایمان جیسے خدا تعالیٰ کے ملائکہ اور کتب اور رسل پر ہے ایسے ہی اس بات پر بھی ہے کہ انجام کار ہم ہی کامیاب ہوں گے۔اگرچہ ایک دنیا ہماری مخالف کیوں نہ ہو۔آج کل کے عقلمندوں کے نزدیک تو کسی کو اپنا دشمن بنانا غلطی ہے۔لیکن سچ پوچھو تو یہ بھی حقانیت کی ایک دلیل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک سے بھی نہ رکھی سب سے بگاڑ لی۔ان لوگوں کے نزدیک تو نعوذ باللہ آپؐنے غلطی کی حالانکہ محض خدا کے لیے سب سے بگاڑ لینا آپ کی صداقت کا بیّن ثبوت ہے کہ جس سے آپ کی قوت ایمانی کا حال معلوم ہوتا ہے۔ایک طرف مسیحؑکو دیکھو کہ اس کی تعلیم سے جو کہ انجیلوں میں پائی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مشرب کسی کو ناراض کرنے کا ہرگز نہ تھا۔یہودیوں کو سنایا گیا کہ میں توریت کا ایک شوشہ تک زیر و زبر کرنے نہیں آیا۔اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ ان کی خوشامد مد نظر تھی۔برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دیکھا جاوے تو کوئی بھی فرقہ اور مذہب روئے زمین پر ایسا نظر نہ آوے گا جس کو آپ نے دعوت نہ کی ہو اور جس کی غلطی نہ نکالی ہو (اور پھر ہر ایک کے مقابلہ پر اپنے مظفر و منصور ہونے کا دعویٰ بھی کیا) بھلا بتلاؤ کہ جب تک خدا پر پورا بھروسہ اور یقین نہ ہو کب کوئی اس طرح سے کر سکتا ہے؟ خیر بات یہ ہے کہ درمیان میں کیا کیا مکروہات ہوں ہمیں اس کا علم نہیں مگر انجام بہرحال نیک