ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 329

قیامت نے فنا کرنے سے چھوڑا تو کچھ شک نہیں کہ کوئی اور بھی آجائے گا۔ہم ہرگز اس سے انکار نہیں کرتے کہ صالح اور ابرار لوگ آتے رہیں گے۔اور پھر بَغْتَةً قیامت آجائےگی۔اس زمانہ کے مولوی مولویوں کے ذکر پر فرمایا۔اگر تزکیہ نفس اور اتباع سنت ان میں ہوتا تو اس قدر اختلاف اور جھگڑا کیوں ہوتا۔کوئی ہرج اسلام کا بھی نہ ہوتا۔مگر اب تو عام طور پر ہر شخص جانتا ہے کہ ان لوگوں کی حالت کیسی ہوگئی ہے۔آزمائش کے لیے دو چار مولوی لے آؤ پھر دیکھ لو کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم ایک بات کہیں گے قطع نظر اس سے کہ وہ اس پر غور کریں فوراً اس کی تردید پر آمادہ ہوجائیں گے۔میں افسوس سے کہتا ہوں کہ جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہودیوں کی سی حالت ہوجاوے گی۔وہی حالت ہوچکی ہے۔مجھے اس امر سے بہت محبت اور خواہش تھی اور ہے کہ کوئی ان میں درندگی چھوڑ کر انسانیت سے ہم پر اعتراض کرے اور اس کا جواب غور سے سنے۔میں اس بات پر بھی رضامند اور خوش تھا کہ یہاں آکر ہمارے پاس رہتے ہم ہر طرح سے ان کی خاطر داری اور تواضع کرتے۔وہ ٹھنڈے دل سے اپنے اعتراض پیش کرتے اور سعید الفطرت لوگوں کی طرح جواب سنتے۔پھر جو اعتراض رہتا یا اس جواب پر ہوتا پیش کرتے۔مگر انہوں نے اس طریق کو بالکل چھوڑ دیا اور عمداً حق پوشی کی ہے۔وہ چاہتے نہیں کہ ان کی آنکھ کھلے اور حق ظاہر ہو۔اگرچہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے اس لیے کہ یہ ارادہ ان کا اللہ تعالیٰ کے ارادہ کا صریح مخالف ہے۔کونسی گالی ہے جو انہوں نے ہم کو نہیں دی اور کونسا نام ہے جو انہوں نے ہمارا نہیں رکھا۔آنے والا موعود حَکم ہو کر آئے گا انسان کا فرض تو یہ ہے کہ اگر اسے راستی ملے تو اس کے لینے میں چون و چرا نہ کرے مگر انہوں نے ذرا سے اختلاف کی وجہ سے (جو وہ بھی اختلاف نہ تھا) ساری صداقتوں کا خون کر دیا۔ہمارا ان کا بہت سے امور میں اتفاق تھا۔صرف ایک بات پیش کی تھی مسیح ابن مریم مرگیا ہے اور آنے والا موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے موافق تم ہی میں سے آیا ہے۔میں حیران ہوں کہ ایک طرف تو یہ تسلیم