ملفوظات (جلد 7) — Page 328
اور آیات بھی دکھاتا ہے۔چنانچہ جب وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے اور اس پر ایمان لاتا ہے تو وہ آیات اللہ کو دیکھتا ہے جس سے اس کا ایمان عرفان کے رنگ میں مضبوط ہوجاتا ہے۔دوسرے ادیان کے متبعین میں یہ آیات اور نشانات نہیں ہیں۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل متبعین ہی کو ملتے ہیں جو اپنے دل کو صاف کرتے ہیں اور ان میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔اس وقت انہیں یہ نشانات دیئے جاتے ہیں جو ان کی معرفت اور قوت یقین کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا قادر ہونا یہودی۔اگر خدا قادر ہے تو کیوں نہیں ہو سکتا کہ وہ مسیح کو آسمان سے لے آوے؟ حضرت اقدس۔بے شک خدا تعالیٰ قادر ہے مگر اسکے یہ معنے نہیںکہ وہ خلاف وعدہ کرتا ہے یا ایسے افعال بھی اس سے صادر ہوتے ہیں جو اس کی صفات کاملہ اور اس کی قدوسیت کے خلاف ہوں۔کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کر دے یا کوئی اپنا مثیل پیدا کر لے۔اسی طرح پر جبکہ وہ ایک عہد کر چکا ہے کہ مُردے واپس اس دنیا میں نہیں آتے تو وہ اس کا خلاف کیونکر کرے؟ قادر سمجھ کر خدا تعالیٰ کے لیے ایسے امور تجویز کر لینا جو اس کی صفات کاملہ کے منافی ہوں اللہ تعالیٰ کی سخت ہتک اور توہین ہے اور اس سے ڈرنا چاہیے۔یہ محل ادب ہے۔(اس مقام پر یہودی صاحب بھی خاموش ہوگئے اور سلسلہ کلام ختم ہوگیاہے۔اعلیٰ حضرت تشریف لے گئے۔)۱ ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۵ء (قبل دوپہر) سلسلہ مجددین ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا آپ کے بعد بھی مجدد آئےگا؟ اس پر فرمایا۔اس میں کیا ہرج ہے کہ میرے بعد بھی کوئی مجدد آجاوے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ختم ہوچکی تھی۔اس لیے مسیح علیہ السلام پر آپ کے خلفاء کاخاتمہ ہوگیا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ قیامت تک ہے اس لیے اس میں قیامت تک ہی مجددین آتے رہیں گے۔اگر