ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 322

اعمال صالحہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل اتباع اور دعائیں جذب کرتی ہیں۔قوم کا ابتلا بھی مال کے ابتلا سے کم نہیں۔بعض لوگ دوسری قوموں کو حقیر سمجھتے ہیں۔اس ابتلا میں سید سب سے زیادہ مبتلا ہیں۔ایک عورت گداگر ہمارے ہاں آئی وہ کہتی تھی کہ میں سیدانی ہوں اس کو پیاس لگی اور پانی مانگا تو کہا کہ پیالہ دھو کر دینا کسی امتی نے پیا ہوگا۔اس قسم کے خیالات ان لوگوں میں پیدا ہوئے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور ان باتوں کی کچھ قدر نہیں۔اس نے فیصلہ کر دیا ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ(الـحجرات:۱۴)۔تنخواہ دار امام الصلوٰۃ ایک مخلص اور معزز خادم نے عرض کی کہ حضور میرے والد صاحب نے ایک مسجد بنائی تھی وہاں جو امام ہے اس کو کچھ معاوضہ وہ دیتے تھے اس غرض سے کہ مسجد آباد رہے۔وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں۔میں نے اس کا معاوضہ بدستور رکھا ہے اب کیا کیا جاوے؟ فرمایا۔خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کے لیے نماز پڑھتا ہے اس کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔نماز تو خدا کے لیے ہے۔اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خدا کے لیے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کریں۔ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی یا غیر احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی۔امام اَتقیٰ ہونا چاہیے۔بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں اور اس کی تنخواہ بھی ٹھیرا لیتے ہیں۔یہ درست نہیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس کی خدمت کر دے تو یہ جائز ہے۔۱ ۲۸؍ستمبر ۱۹۰۵ء (قبل دوپہر) امام مہدی کی جنگیں آج ایک ترک اور ایک یہودی اعلیٰ حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے۔انہوں نے حضرت اقدسؑ سے چند سوالات