ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 321

پس وہ کام کرو جو اولاد کے لیے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے اول خود اپنی اصلاح کرو۔اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیزگار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا (الکہف:۸۳) ان کا والد صالح تھا۔یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔پس اس مقصد کو حاصل کرو۔اولاد کے لیے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو۔اگر وہ دین اور دیانت سے باہر چلے جاویں۔پھر کیا؟ اس قسم کے امور اکثر لوگوں کو پیش آجاتے ہیں۔بد دیانتی خواہ تجارت کے ذریعہ ہو یا رشوت کے ذریعہ یا زراعت کے ذریعہ جس میں حقوقِ شرکاء کو تلف کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی میری سمجھ میں آتی ہے کہ اولاد کے لیے خواہش ہوتی ہے کیونکہ بعض اوقات صاحب جائیداد لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہوجاوے جو اس جائیداد کی وارث ہو تاکہ غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جاوے مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شرکاء کون اور اولاد کون۔سب ہی تیرے لیے تو غیر ہیں۔اولاد کے لیے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین ہو۔غرض حق العباد میں پیچ در پیچ مشکلات ہیں جب تک انسان ان میں سے نکلے نہیں مومن نہیں ہوسکتا۔نری باتیں ہی باتیں ہیں۔نجات نہ قوم پر منحصر ہے نہ مال پر اللہ تعالیٰ کا کسی سے رشتہ ناطہ نہیں۔اس کے ہاں اس کی بھی کچھ پروا نہیں کہ کوئی سید ہے یا کون ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ یہ خیال مت کرنا کہ میرا باپ پیغمبر ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔کسی نے پوچھا کہ کیا آپؐبھی؟ فرمایا ہاں میں بھی۔مختصر یہ کہ نجات نہ قوم پر منحصر ہے نہ مال پر بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اور اس کو