ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 23

تعلق پیدا کرنے کے واسطے قسم قسم کے ابتلا اور مشکلات پیش آئیں گے۔لیکن میں کیا کروں یہ ابتلا نئے نہیں ہیں۔جب خدا تعالیٰ کسی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور کوئی اس کی طرف جاتا ہے تو اس کے واسطے ضرور ہے کہ ابتلاؤں میں سے ہو کر گذرے۔دنیا اور اس کے رشتہ عارضی اور فانی ہیں مگر خدا تعالیٰ کے ساتھ تو ہمیشہ کے لیے معاملہ پڑتا ہے پھر اس سے آدمی کیوں بگاڑے؟ دیکھو! صحابہؓ کو کچھ تھوڑے ابتلا پیش آئے تھے۔ان کو اپنا وطن، مال و دولت، اپنے عزیز رشتہ دار سب چھوڑنے پڑے۔لیکن انہوں نے خدا کی راہ میں ان چیزوں کو مری ہوئی مکھی کے برابر بھی نہیں سمجھا۔خدا تعالیٰ کو اپنے لیے کافی سمجھا پر خدا تعالیٰ نے بھی ان کی کس قدر قدر کی۔اس سے وہ خسارہ میں نہیں رہے بلکہ دنیا و آخرت میں انہوں نے وہ فائدہ پایا جو اس کے بغیر انہیں مل سکتا ہی نہیں تھا۔اس لیے اگر کوئی ابتلا آوے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔ابتلا مومن کے ایمان کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ اس وقت روح میں عجز و نیاز اور دل میں ایک سوزش اور جلن پیدا ہوتی ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کے آستانہ پر پانی کی طرح گداز ہو کر بہتا ہے۔ایمان کامل کا مزا ھمّ و غم ہی کے دنوں میں آتا ہے۔اس وقت اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر کرو۔خدا تعالیٰ سے اب تمہارا نیا معاملہ شروع ہوا ہے کیونکہ وہ پچھلے گناہ سچی توبہ کے بعد بخش دیتا ہے اور توبہ سے یہ مراد نہیںکہ انسان زبان سے کہہ دے اور اعمال میں اس کا اثر ظاہر نہ ہو۔نہیں۔توبہ یہی ہے کہ بدیوں اور خدا کی نافرمانیوں کو قطعاً چھوڑ دے اور نیکیاں کرے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں اپنی زندگی بسر کرے۔اب بے فکر رہنے کے دن نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہو شیار کر رہا ہے۔تم کو خوب معلوم ہے کہ طاعون نے اس ملک کو کیسا تباہ کیا ہے اور کس طرح پر فنا کا تصرّف جاری ہے۔اور ثابت ہو رہا ہے کہ دنیا فانی ہے۔اب بھی اگر انسان اپنے اعمال کو درست نہ کرے تو یہ اس کی کیسی غفلت اور بد نصیبی ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم ہرگز ہرگز بے فکر نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے عذاب کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس وقت آجاوے اور وہ غافلوں کو ہلاک کر دیتا ہے جو دنیا میں مست ہوجاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بےباک اور شوخی اختیار کرتے ہیں۔تم جانتے ہو کہ طاعون کے دن آتے ہیں اور معلوم نہیں