ملفوظات (جلد 7) — Page 295
کس طرح پر آپ نے ان کی کایا پلٹ دی اور انہیں بالکل رو بخدا کر دیا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُـحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ۔خلاصہ یہ کہ ہمارا فرض یہ ہونا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے جویا اور طالب رہیں اور اسی کو اپنا اصل مقصود قرار دیں۔ہماری ساری کوشش اور تگ و دو اللہ تعالیٰ کے رضا کے حاصل کرنے میں ہونی چاہیے۔خواہ وہ شدائد اورمصائب ہی سے حاصل ہو۔یہ رضائے الٰہی دنیا اور اس کی تمام لذات سے افضل اور بالا تر ہے۔شہادت کی حقیقت یہ بھی یاد رکھو کہ یہی شہادت نہیں کہ ایک شخص جنگ میں مارا جاوے بلکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدم رہتا ہے اور اس کے لیے ہر دکھ درد اور مصیبت کو اٹھانے کے لیے مستعد رہتا ہے اور اٹھاتا ہے وہ بھی شہید ہے۔شہید کا مقام وہ مقام ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھتا اور مشاہدہ کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کی قدرتوں اور تصرفات پر وہ اس طرح ایمان لاتا ہے جیسے کسی چیز کو انسان مشاہدہ کر لیتا ہے۔جب اس حالت پر انسان پہنچ جاوے پھر اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینا کچھ بھی مشکل معلوم نہیں ہوتا بلکہ وہ اس میں راحت اور لذت محسوس کرتا ہے۔شہادت کا ابتدائی درجہ خدا کی راہ میں استقلال اور ثباتِ قدم ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص نہ مرا اللہ کی راہ میں اور نہ تمنا کی مر گیا وہ نفاق کے شعبہ میں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص مومن کامل نہیں ہوتا جب تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنا دنیا کی زندگی سے وہ مقدم نہ کرلے۔پھر یہ کیسا گراں مرحلہ ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے دنیا کی حیات کو عزیز سمجھا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے کے یہ معنے نہیں کہ انسان خواہ نخواہ لڑائیاں کرتا پھرےبلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام اور اوامر کو اس کی رضا کو اپنی تمام خواہشوں اور آرزوؤں پر مقدم کرلے اور پھر اپنے دل میں غور کرے کہ کیا وہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتا ہے یا آخرت کو اور خدا کی راہ میں اگر اس پر مصائب اور شدائد بھی پڑیں تو وہ ایک لذت اور خوشی کے ساتھ انہیں برداشت کرے اور اگر جان بھی دینی پڑے تو تردّد نہ ہو۔