ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 294

ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور پوچھا کہ کیا شہید نہیں ہوا؟ آپ نے فرمایا دو اجر ملیں گے۔ایک یہ کہ دشمن پر حملہ کیا اور دوسرا اس لیے کہ اپنے آپ کو محض خدا کے لیے خطرہ میں ڈالا۔اس قسم کا ایمان ان لوگوں کا تھا۔پس جب تک اس قسم کا اخلاص اور استقامت اللہ تعالیٰ کے لیے حاصل نہ ہو کچھ نہیں بنتا۔میں اپنی جماعت میں صحابہؓ کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہوں میں یہی نمونہ صحابہؓ کا اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو وہ مقدم کر لیں اور کوئی امر ان کی راہ میں روک نہ ہو۔وہ اپنے مال و جان کو ہیچ سمجھیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کے کارڈ آتے ہیں۔کسی تجارت یا اور کام میں نقصان ہوا یا اور کسی قسم کا ابتلا آیا تو جھٹ شبہات میں پڑ گئے۔ایسی حالت میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اصل مطلب اور مقصد سے وہ کس قدر دور ہیں۔غور کرو کیا فرق ہے صحابہؓ میں اور ان لوگوں میں؟ صحابہؓ یہ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریںخواہ اس راہ میں کیسی ہی سختیاں اور تکلیفیں اٹھانی پڑیں۔اگر کوئی مصائب اور مشکلات میں نہ پڑتا اور اسے دیر ہوتی تو وہ روتا اور چلاتا تھا۔وہ سمجھ چکے تھے کہ ان ابتلاؤں کے نیچے خدا تعالیٰ کی رضا کا پروانہ اور خزانہ مخفی ہے۔؎ ہر بلا کیں قوم را حق دادہ است زیر آں گنج کرم بنہادہ است قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے۔اسے کھول کر دیکھو۔صحابہؓ کی زندگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا عملی ثبوت تھا۔صحابہؓ جس مقام پر پہنچے تھے اس کو قرآن شریف میں اس طرح پر بیان فرمایا ہے مِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ (الاحزاب:۲۴) یعنی بعض ان میں سے شہادت پا چکے اور انہوں نے گویا اصل مقصود حاصل کر لیا اور بعض اس انتظار میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ شہادت نصیب ہو۔صحابہؓ دنیا کی طرف نہیں جھکے کہ عمریں لمبی ہوں اور اس قدر مال و دولت ملے اور یوں بے فکری اور عیش کے سامان ہوں۔میں جب صحابہؓ کے اس نمونہ کو دیکھتا ہوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اور کمال فیضان کا بے اختیار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ