ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 270

اب اگر کوئی لذت اور ذوق نہ تھا تو پھر کیا وجہ تھی جو ان مصائب اور مشکلات کو برداشت کیا؟ وہ وہی لذت تھی جو اللہ تعالیٰ کی محبت میںملتی ہے اور جس کی مثال اورنمونہ کوئی پیش نہیں کیا جا سکتا۔جماعت کے قیام کا مقصد محبت الٰہی کو پیدا کرنا ہے خدا تعالیٰ نے اس وقت ایک صادق کو بھیج کر چاہا ہے کہ ایسی جماعت طیار کرے جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض کچے لوگ داخل ہوجاتے ہیں اور پھر ذرا سی دھمکی ملتی ہے اور لوگ ڈراتے ہیں تو پھر خط لکھ دیتے ہیں کہ کچھ تقیہ کر لیا ہے۔بتاؤ انبیاء علیہم السلام اس قسم کے تقیہ کیا کرتے ہیں؟ کبھی نہیں۔وہ دلیر ہوتے ہیں اور انہیں کسی مصیبت اور دکھ کی پروا نہیں ہوتی۔وہ جو کچھ لے کر آتےہیں اسے چھپا نہیں سکتے خواہ ایک شخص بھی دنیا میں ان کا ساتھی نہ ہو۔وہ دنیا سے پیار نہیں کرتے۔ان کا محبوب ایک ہی خد اہوتا ہے۔وہ اس راہ میں ایک مرتبہ نہیں خواہ ہزار مرتبہ قتل ہوں اس کو پسند کرتے ہیں۔اس سے سمجھ لو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلق کا مزا اور لطف نہیں تو پھر یہ گروہ کیوں مصائب اٹھاتے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو پڑھو کہ کفار نے کس قدر دکھ آپ کو دیئے۔آپ کے قتل کا منصوبہ کیا گیا۔طائف میں گئے تو وہاں سے خون آلود ہو کر پھرے۔آخر مکہ سے نکلنا پڑا۔مگر وہ بات جو دل میں تھی اور جس کےلئے آپؐمبعوث ہوئے تھے اسے ایک آن کے لیے بھی نہ چھوڑا۔یہ مصائب اور تکالیف کبھی برداشت نہیں ہوسکتیں جب تک اندرونی کشش نہ ہو۔ایک غریب انسان کےلیے دو چار دشمن بھی ہوں وہ تنگ آجاتا ہے اور آخر صلح کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔مگروہ جس کا سارا جہان دشمن ہو وہ کیونکر اس بوجھ کو برداشت کرے گا۔اگر قوی تعلق نہ ہو۔عقل اس کو قبول نہیں کرتی۔مختصر یہ کہ خدا تعالیٰ کی محبت کی لذت ساری لذتوں سے بڑھ کر ترازو میں ثابت ہوتی ہے۔پس وہ لذات جو بہشت میں ملیں گی۔یہ وہی لذتیں ہیں جو پہلے اٹھاچکے ہیں۔اور وہی ان کو سمجھتےہیں جو پہلے اٹھا چکے ہیں۔