ملفوظات (جلد 7) — Page 269
یہ ہے کہ وہ بہشتی لوگ جو اس دنیا میں بڑے عابد اور زاہد تھے جب وہ اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کے متمثلات سے لطف اٹھائیں گے تو ان کو وہ ایمانی لذت آجائے گی اور ان مجاہدات اور اعمال صالحہ کا مزا آجائے گا جو اس عالم میں انہوں نے کئے تھے اس لیے وہ کہیں گے هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ(البقرۃ:۲۶)۔محبت الٰہی کی لذات غرض جس قدر قرآن شریف کو کوئی شخص تدبر اور غور سے پڑھے گا اسی قدر وہ اس حقیقت کو سمجھ لے گا کہ ان لذات کا تمثیلی رنگ میں فائدہ اٹھائے گا۔محبت الٰہی کی لذات ہیں۔لذت کا لفظ جو مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے وہ جسمانی لذت کے مفہوم سے ہزاروں درجہ زیادہ مفہوم روحانی لذت میں رکھتا ہے۔اگر اس محبت کی لذت میں غیر معمولی سیری اور سیرابی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے محب جسمانی لذات کو ترک کیوںکریں۔یہاں تک کہ بعض اس قسم کے بھی ہو گذرے ہیں جنہوں نے سلطنت تک کو چھوڑ دیا۔چنانچہ ابراہیم ادھم نے سلطنت چھوڑ دی۔اور انبیاء علیہم السلام نے ہزاروںلاکھوں مصائب کو برداشت کیا۔اگر وہ لذت اور ذوق اس محبت الٰہی کی تہہ میں نہ تھا جو انہیں کشاں کشاں لیے جاتا تھا تو وہ پھر کیا بات تھی کہ اس قدر مصائب کو انہوں نے خوشی کے ساتھ اٹھا لیا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس درجہ میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔اس لیے آپؐکی زندگی کانمونہ بھی سب سے افضل و اعلیٰ ہے۔کفارِ مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دنیا کی ساری نعمتیں اور عزتیں پیش کیں۔مال و دولت، سلطنت، عورتیں۔اور کہا کہ آپؐ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں اور یہ توحید کا مذہب پیش نہ کریں۔اس خیال کو جانے دیں وہ دنیادار تھے ان کی نظر دنیا کی فانی اوربے حقیقت لذتوں سے پرے نہ جاسکتی تھی۔انہوںنے سمجھا کہ یہ تبلیغ انہیں اغراض کے لیے ہوگی مگر آپ نے ان کی ان ساری پیش کردہ باتوں کو ردّ کر دیا اور کہا کہ اگر میرے دائیں بائیں آفتاب اور ماہتاب بھی لا کر رکھ دو تب بھی میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔پھر اس کے بالمقابل انہوں نے آپ کو وہ تکالیف پہنچائیں جن کا نمونہ کسی دوسرے شخص کی تکالیف میں نظر نہیں آتا۔لیکن آپ نے ان تکالیف کو بڑی لذت اور سرور سے منظور کیا مگر اس راہ کو نہ چھوڑا۔