ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 261

ساری حسرتیں قبروں میں دفن کی گئی ہیں۔مگر یہ بات اللہ تعالیٰ کے فضل بغیر میسر نہیں ہو سکتی کہ انسان غفلت کی زندگی کو چھوڑ کر عالم آخرت کی طیاری میں لگا رہے۔سننے کو تو ہر ایک کان سن سکتا ہے کیونکہ سننا سہل ہے مگر عمل کرنے کے لیے مشکل پڑتی ہے۔انسان کی عادت میں داخل ہے کہ جب تک ایک مجلس میں بیٹھا ہے اس مجلس کی باتوں سے متاثر ہوتا ہے لیکن جب وہاں سے اٹھتا ہے اور مجلس منتشر ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ باتیں بھی بھول جاتی ہیں گویا وہ وہیں کے لیے تھیں۔ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں اور دفعتًا موت کے آجانے پر انہیں بہت کچھ حسرت اور افسوس کرنا پڑتا ہے۔موت انہیں کی اچھی ہوتی ہے جو مرنے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے ہیں۔فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ عطاری کی دوکان کیا کرتے تھے ایک دن صبح ہی صبح جب آکر انہوں نے دوکان کھولی تو ایک فقیر نے آکر سوال کیا۔فرید الدین نے اس سائل کو کہا کہ ابھی بوہنی نہیں کی۔فقیر نے ان کو کہا کہ اگر تو ایسا ہی دنیا کے دھندوں میں مشغول ہے تو تیری جان کیسے نکلے گی۔فرید الدین نے اس کو جواب دیا کہ جیسے تیری نکلے گی۔فقیر یہ سن کر وہیں لیٹ گیا اور کہا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ اور اس کے ساتھ ہی جان نکل گئی۔فرید الدین نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو بہت متاثر ہوا۔اسی وقت ساری دوکان لُٹا دی اور ساری عمر یادِ الٰہی میں گذار دی۔یہ طیاری ہوتی ہے۔طیاری میں رنج نہیں ہوتا۔کش مکش ہو تو پھر رنج اور افسوس ہوتا ہے۔صوفیاء اور مولوی فرمایا۔صوفیوں کی جو کتابیں ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں موت کا خیال دامنگیر رہا ہے۔لیکن مولویوں کے نام سے جو لوگ گذرے ہیں وہ عموماً محجوب رہے ہیں۔بہت ہی کم جو دراصل وہ بھی فقیر تھے وہ تو اس حجاب سے بچے ہیں ورنہ اہل تصوف سے عموماً الگ رہے ہیں اور ایسے پاک باز لوگوں پر کفر ہی کے فتوے دیتے رہے جو دنیا سے انقطاع کرنے والے تھے۔صوفی تو ایسے ہیں جیسے ہر وقت کوئی مرنے کو طیار رہتا ہے۔ان کی کتابوں کو پڑھ کر طبیعت خوش ہوجاتی ہے۔اور ان سے خوشبو آتی ہے کہ وہ صاحبِ حال ہیں صاحبِ قال