ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 226

۱۲ستمبر ۱۹۰۵ء الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ آج کے الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کا ذکر تھا۔فرمایا۔بڑے بڑے مکفرین اور ایذا دہندہ جو ہیں ان کو خدا تعالیٰ ہمارے سامنے ہی اس زمین سے ناکام اٹھا رہا ہے اور ان کی مرادوں کے برخلاف دن بدن اس سلسلہ کو ترقی دے رہا ہے۔ابتدا میں جن لوگوں نے بہت زور شور سے مخالفت کا بیڑا اٹھا یا تھا ان میں سے کوئی چودہ پندرہ ایسے یاد ہیں جو ہماری مخالفت کے معاملہ میں ناکام مر چکے ہیں۔ان میں سے مولوی غلام دستگیر قصوری تھا جو مکہ سے کفر کا فتویٰ لایا تھا۔نواب صدیق حسن خاں۔لکھو کے کا مولوی محمد اور عبد الحئی۔رشید احمد گنگوہی۔لدھیانہ کے تین مولوی۔سید احمد خاں جو کہتا تھا کہ ہماری تحریریں بے فائدہ ہیں۔محمد عمر۔مولوی شاہ دین لدھیانوی۔نذیر حسین دہلوی۔محمد حسین بھینی۔مولوی محمد اسماعیل علیگڈھی۔رسل بابا امرتسری۔جس نے جلدی معجزہ دیکھنا ہو اسے چاہیے کہ دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرے یا تو سخت مخالف بنے یا محبت کا کمال تعلق پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو تیری اہانت کرے گا اس کی میں اہانت کروں گا اور جو تیری اعانت کرے گا اس کی میں اعانت کروں گا۔معمولی طور مخالفت کرنے والا اور اپنے کاروبار میں چلنے پھرنے والا ماخوذ نہیں ہوتا کیونکہ خدا حلیم اور کریم ہے وہ اس طرح نہیں پکڑتا۔کذبِ باری تعالیٰ کا مسئلہ بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰعَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (الاحقاف:۳۴) ہے اس واسطے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جھوٹھ بولے۔ایسا اعتقاد بے ادبی میں داخل ہے۔ہر ایک امر جو خدا تعالیٰ کے وعدہ اس کی ذات جلال اور صفات کے بر خلاف ہے وہ اس کی طرف منسوب کرنا بڑا گناہ ہے۔جو امر اس کی